طلال چودھری کی اپیل خارج

سپریم کورٹ نے توہین عدالت میں سزا پانے والے مسلم لیگ ن کے سابق وزیر طلال چودھری کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی ہے ۔ عدالت کی جانب سے سزا کے نتیجے میں پانچ سال کی نااہلی برقرار رہے گی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے طلال چودھری کی اپیل کی سماعت کی ۔ طلال چودھری کی جانب سے وکیل کامران مرتضی پیش ہوئے اور کہا کہ عدالت سزا معاف کر سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں نااہلی ختم ہو جائے گی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ معافی کی گنجائش نہیں بنتی، آپ نے معافی کی بجائے مقدمہ لڑا ہے ۔ وکیل نے کہا کہ کیرئیر ختم ہو جائے گی، کوئی اور ذریعہ آمدن بھی نہیں، وکالت بھی کرنی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا کیرئیر سیاست ہے وکالت کبھی نہیں کی ۔ عدالت اب معافی قبول نہیں کرے گی، معافیاں بہت ہو گئیں ۔ فیصلے میں کیا غلطی ہے قانونی دلائل دیں ۔ وکیل کامران مرتضی نے کہا آپ اس کیس کو نہیں سن سکتے کیونکہ ازخود نوٹس آپ نے لیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اعتراض مسترد کیا جاتا ہے، میرا کوئی تعصب نہیں ۔ نوٹس لے کر معاملہ دوسرے بنچ کو بھیجا تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو بتا دیں وہ کون سا پی سی او جج تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ عدالت پی سی او بتوں سے بھری ہوئی ہے؟ وکیل نے کہا کہ تقریر میں کہی گئی اس بات کا ایسا کوئی مطلب اور مقصد نہ تھا کہ عدالت کی توہین کی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے بعد میں بھی ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے ۔

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان سمیت کئی سیاست دانوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جسٹس سجاد شاہ نے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بھی طلال چودھری نے معافی نہیں مانگی تھی ۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سزا کے خلاف طلال چودھری کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے