پشاور: ڈیڑھ ارب کے بے نامی اکاؤنٹس

عظمت گل / نمائندہ خصوصی

پشاور میں بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت کا دعوی کیا گیا ہے ۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں موجود ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں درجنوں بے نامی اکاؤنس کا کھوج لگایا گیا جن مٰن ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن کی گئیں ۔

ایف آئی اے کے مطابق مال روڈ پشاور میں دفاتر پر چھاپے کے دوران اہم دستاویزات قبضے میں لی گئی تھیں، دستاویزات سے بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلی معلومات سامنے آئی ہیں جن سے اب تک ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانزکشنز کا پتہ چلا ہے،  ایف آئی اے زرائع کے مطابق بیشتر بے نامی اکاؤنٹس قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام ہیں ۔

ایف آئی اے زرائع کا کہنا ہے کہ ایک بے نامی اکاؤنٹ خیبر ایجنسی کے 22 سالہ نوجوان کے نام بھی ہے، نوجوان کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے کی منتقلی ہوئی ہے ۔ ایک اور بے نامی اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے کراچی کے نجی بنک منتقل ہوئے ۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر سے کرنسی کا غیرقانونی کاروبار کرنے والوں کے کوائف حاصل کئے جا رہے ہیں، منی لانڈرنگ کے ٹھوس شواہد پر بڑے مگر مچھوں کے خلاف 2 درجن انکوائریاں شروع ہیں ۔

بے نامی اکاؤنٹ ہولڈرز سے رابطے کیلئے ایف آئی اے نے علیحدہ ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کراچی میں بے نامی اکاٶنٹس کاپتہ چلنے پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مال روڈ پر کارروائی کی گئی تھی ۔ پشاور میں مکان سے بھاری تعداد میں چیک بکس، رسیدیں اور بے نامی اکاؤنٹس کی دستاویزات ملی تھیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے