کون عباسی؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو نیب کو پاکستان سٹیٹ آئل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر عمران الحق کے تقرر اور تنخواہ و مراعات کی انکوائری چار ہفتے میں مکمل کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ٹیکسز بہت بڑھ گئے ہیں، آج کل کے حالات میں لوگ بہت پریشان ہیں، مہنگائی میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت اوپر جارہی ہے ۔

سپریم کورٹ میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر کی ۳۷ لاکھ تنخواہ پر سوال اٹھایا ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا جب ۳۷ لاکھ والے عمران الحق کو ایم ڈی لگایا گیا تو وزارت پٹرولیم کے سیکرٹری اور وزیر قانون تھے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد مرزا سیکرٹری اور شاہد خاقان عباسی وزیر تھے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کون عباسی؟ ۔ بتایا گیا کہ شاہد خاقان عباسی ۔

اس سے قبل مقدمے کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس بہت بڑھ گئے ہیں، آج کل کے حالات میں لوگ بہت پریشان ہیں، دیکھیں ڈالر کہاں جا رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت اوپر جارہی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تیل کی ایک پیسہ بھی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو یہ ریلیف عوام کو ملنا چاہیے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہمیں بتایا جائے گزشتہ حکومت نے کیا کیا؟ پھر خود ہی کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایک ایم ڈی 37 لاکھ روپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا، اتنی تنخواہ ایک شخص کو دے دی، کیا وہ ریاست کا پیارا بچہ تھا؟ ۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے بتایا کہ سٹیٹ آئل کے ایم ڈی کا تقرر وفاقی حکومت نے کیا تھا اور یہ قانون کے مطابق اسی کا اختیار ہے ۔

آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ ایم ڈی کے تقرر کیلئے جنوری 2015 میں اشتہار جاری ہوا، انٹرویو لینے کیلئے نجی کمپنی کی خدمات لی گئیں، 8 امیدواروں میں سے تین کو شارٹ لسٹ کرکے حکومت کو نام بھجوائے گئے، تاہم پہلا پراسیس حکومت نے ختم کر کے ازسر نو اشتہار جاری کرایا، کمپنی نے انٹرویو کر کے چھ نام حکومت کو دیئے، حکومت نے تین نام وزیراعظم کو بھجوائے جن میں سے عمران الحق کا تقرر کیا گیا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہمیں بتایا جائے گزشتہ حکومت نے کیا کیا؟ گزشتہ دور میں ایک ایم ڈی 37 لاکھ روپے تنخواہ پر تعینات کیا گیا، اتنی تنخواہ ایک شخص کو دے دی کیا وہ ریاست کا پیارا بچہ تھا؟ آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کا تقرر وفاقی حکومت نے کیا اور یہ قانون کے مطابق اسی کا اختیار ہے ۔ جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ پچھلے ایم ڈی کی تنخواہ کیا تھی؟ عدالت کو بتایا گیا کہ 2010 میں پی ایس او کا ایم ڈی سترہ لاکھ روپے تنخواہ لیتا تھا ۔

عدالت کے پوچھنے پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ عمران الحق پی ایس او کے ایم ڈی بننے سے قبل اینگرو کمپنی میں تھے اور ان کی تنخواہ 34 لاکھ روپے تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں عمران الحق کو ایم ڈی لگاتے وقت پٹرولیم کے سیکرٹری اور وزیر کون تھے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس وقت سیکرٹری ارشد مرزا اور وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی تھے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ٹیکسز بہت بڑھ گئے ہیں، آج کل کے حالات میں لوگ بہت پریشان ہیں، مہنگائی میں اضافہ اور ڈالر کی قیمت اوپر جارہی ہے ۔

عدالت نے نیب کو ایم ڈی کے تقرر اور تنخواہ و مراعات کی انکوائری چار ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ایل این جی معاہدے پر ان چیمبر بریفنگ دینے کی اجازت بھی دیدی ۔ سماعت چار ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے