سپریم کورٹ: نئے پاکستان کا پہلا مشیر فارغ

سپریم کورٹ نے وزیراعلی بلوچستان کے مشیر عبدالرؤف رند کی الیکشن میں کامیابی کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ جس وقت عبدالرؤف رند نے الیکشن لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے وہ دہری شہریت رکھتے تھے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے عبدالرؤف رند کے کاغذات نامزدگی نے سماعت کی ۔ درخواست گزار برکت علی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کاغذات نامزدگی منظور کرتے وقت ریٹرننگ افسر نے دہری شہریت کو مدنظر نہیں رکھا، عبدالرؤف رند نے اومان کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکیٹ جمع نہیں کرایا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے قانونی سوال ہے کہ ایک مرتبہ دہری شہریت حاصل کر لی تو کیا ہمیشہ کیلئے پارلیمنٹ کا ممبر بننے پر قدغن ہوگی؟

عبدالروف رند کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ الیکشن لڑنے سے قبل اومان کی شہریت ترک کر دی تھی ۔ جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ عبدالروف نے اومان کی شہریت کیسے حاصل کی؟۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے جواب دیا کہ عبدالروف کے والد اومانی شہریت رکھتے تھے، عبدالروف پیدائشی طور پر اومان کی شہریت رکھتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عبدالروف رند نے جب کاغذات نامزدگی داخل کئے اس وقت تک ان کی اومانی شہریت ختم نہیں ہوئی تھی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شہریت تب ختم ہوتی ہے جب متعلقہ ادارہ شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکٹ جاری کرتا ہے ۔

عدالت نے برکت علی کی اپیل منظور کرتے ہوئے عبدالروف رند کی الیکشن میں کامیابی کالعدم قرار دے دی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عبد الروف رند نے بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان کے حلقہ پی بی 47 کیچ سے الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی تھی اور وزیراعلی کے مشیر برائے فشریز مقرر کئے گئے تھے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے