تھر کیس میں کمیٹی بن گئی

سپریم کورٹ نے تھر میں غذائی قلت اور بیماریوں سے بچوں کی ہلاکت کے ازخود نوٹس میں سندھ حکومت کو کمیٹی بنا کر مسئلے کا فوری اور دیرپا حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے، کمیٹی تین ہفتوں میں رپورٹ دے گی ۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس دوران علاقے میں خوراک کی فراہمی، بچوں کی اموات کی روک تھام اور ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے جائے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ تھر میں بچوں کی اموات کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ اٹارنی جنرل انور منصور، ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین اور چیف سیکرٹری نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ تھر کے لئے کمیٹی بنانے کی تجویز ہے تاکہ اس مسئلے کا فوری اور دیرپا تلاش کیا جا سکے، اس کیلئے تین ہفتے کی مہلت دی جائے اس دوران یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ خوراک کی فراہمی، بچوں کی اموات کی روک تھام اور ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بلاول اور ان کے والد صاحب سے درخواست کروں گا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے تعاون کریں ۔

عدالت نے کمیٹی بنا کر تین ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے