نیب میں بندے لگوا دیئے ہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے ۔ عدالت نے فیصلے پر عمل درآمد بنچ بنانے اور نیب کو فیصلے کے مطابق کراچی بحریہ ٹاؤن زمین لینے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق مقدمے کے اختتام پر چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن کی استدعا پر حکم لکھوایا کہ نیب تفتیش کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن سے منسلک افراد کو ہراساں نہ کرے، تاہم جسٹس آصف کھوسہ نے ان سے کہا کہ حکم نامے میں یہ نہ لکھوایا جائے بلکہ میرٹ کے مطابق تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے جس پر چیف جسٹس نے آرڈر میں سے یہ جملہ حذف کرا دیا ۔

وکیل اعتزاز احسن نے دوبارہ استدعا کی تو چیف جسٹس نے پنجابی میں ان سے کہا کہ ‘ویسے تہاڈے بندے شندے نیب کراچی وچ لگ گئے نیں، مینوں پتہ اے، سب پتہ اے، (ویسے بھی آپ/بحریہ ٹاؤن کے بندے نیب میں لگ گئے ہیں، مجھے سب پتہ ہے) ۔ چیف جسٹس نے نیب کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کر کے کہا کہ اکبر تارڑ، کہاں کہاں ٹرانسفر، پوسٹنگ ہوگئی ہے نیب میں ۔

اس سے قبل سماعت کے آغاز پر سابق گورنر پنجاب اور بحریہ ٹاؤن سرمایہ کاروں کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ بطور پاکستانی عدالت میں پیش ہوا ہوں، عدالت چاہے تو عملدرآمد بینچ تشکیل دیدے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد بنچ تمام فریقین کے مفاد کو مدنظر رکھے گا، آئندہ ہفتے عملدرآمد بنچ کام شروع کر دے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عملدرآمد بنچ عدالتی حکم پر عمل کروائے گا۔، آپ چاہتے تھے عدالت نیب کو کاروائی سے روکے، نیب اپنا کام کرتا رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کو صرف ہراساں کرنے سے روکیں گے کارروائی سے نہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کو کاروائی سے روکنے کا پہلا حکم عبوری تھا، نہیں چاہتے جن لوگوں کے گھر بن گئے ان کا کوئی مالی نقصان ہو ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بتا دیں کیا بحریہ ٹاؤن اپنی نظر ثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہے ۔ وکیل طارق رحیم نے کہا کہ عدالت یہ لکھ کر دیدے کہ نیب ہراساں نہیں کرے گا ۔  چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہہ دیں گے کہ نیب اپنا کام کرے لیکن ہراساں نہ کرے، عملدرآمد بینچ زمین کی قیمت کا تعین کردے گا، عدالتی بینچ جو قیمت کا تعین کرے گا وہ بحریہ کو ادا کرنے پڑیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے بحریہ کو اپنے ملازمین فارغ کرنے پڑیں اس لئے بھی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، عدالت کے ذہن میں تمام سوالات ہیں، عملدرآمد بنچ نے قیمت کا تعین کر دیا تو نیب کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاون کراچی اچھا منصوبہ ہے لیکن بنیاد قانونی نہیں ۔ عدالت نے عملدرآمد بنچ کے فیصلے تک نیب کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی ۔

وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اپنی نظر ثانی درخواست واپس نہیں لے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایم ڈی اے کی نظر ثانی اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کردیتی ہے ۔ بعد ازاں وکیل نے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی اپنی درخواست واپس لے لیتی ہے ۔

بحریہ ٹاون نے اپنی نظر ثانی کی درخواست واپس لے لی ۔ عدالت نے لکھا کہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بنچ بنا دیں گے، نیب عدالتی آبزرویش سے متاثر ہوئے بغیر کام کرے ۔ درخواست گزاروں نے نظرثانی درخواستیں واپس لے لیں، عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیں ۔ بنچ اگلے ہفتے سے سماعت شروع کردے گا، بحریہ ٹاؤن کی جمع کرائی گئی رقم کا فیصلہ نیا بینچ کرے گا، نیب اپنی آزادانہ کاروائی جاری رکھے ۔ بحریہ راولپنڈی اور مری کی نظر ثانی درخواستیں بعد میں سنی جائیں گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے