جنرل فیض اور بریگیڈئیر عرفان نے ملاقات کی، شوکت صدیقی

اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت صدیقی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے برطرف کرنے کی رائے کی تفصیلات جاری کی ہیں ۔ انتالیس صفحات پر مشتمل تفصیلی رائے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کی ہے ۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی صدارت چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی تھی جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس آصف کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، سندھ ہائیکورٹ کی چیف جسٹس احمد علی شیخ اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس یاور علی شامل تھے ۔

کونسل کی کارروائی صرف ایک دن ہی ہوئی اس کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے یکم اکتوبر کو تفصیلی دلائل دیے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کونسل کی کارروائی کی تفصیلات میں شامل جسٹس شوکت صدیقی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان سے خفیہ ایجنسی کے کارندوں نے ملاقاتیں کیں ۔

کونسل کی تفصیلی رپورٹ کےمطابق جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے دفاع میں جمع کرائے پہلے جواب میں کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا، ابتدائی جواب میں بھی تفصیل فراہم نہیں کی، شوکت صدیقی نے بعد میں بریگیڈیئر عرفان رامے اور میجر جنرل فیض حمید کا نام لیا ۔

کونسل کی رپورٹ میں جسٹس آصف کھوسہ نے لکھا ہے کہ ایک جج کو دیگر ججز اور ان کے فیصلوں سے متعلق محتاط ریمارکس دینے چاہئیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق رپورٹ کے مطابق جسٹس صدیقی نے بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس منیر اور ارشاد حسن خان پر تنقید کی، اس طرح سے تضحیک آمیر انداز میں شوکت صدیقی کو پبلک فورم پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی، مردہ یا زندہ ججوں سے متعلق تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال جج کے شایان شان نہیں ۔

رپورٹ کے مطابق شوکت صدیقی نے سابق چیف جسٹس صاحبان اور ان کے فیصلوں سے متعلق جو کہا وہ ان کی زاتی رائے ہے، ملک کے سیاسی اور آئینی امور سے متعلق عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کرنا جج کیلئے شجر ممنوعہ ہے ۔ جسٹس کھوسہ کی کونسل تفصیلی رپورٹ کے مطابق شوکت صدیقی اپنے تحریری جوابات میں الزامات کو ثابت کرنے کیلئے مواد دینے میں ناکام رہے ۔

کونسل رپورٹ کے مطابق شوکت صدیقی نے اپنے جواب میں فیض آباد دھرنا، بول ایگزٹ گروپ کے مقدمات میں کچھ افراد کے اثر انداز ہونے کا الزام لگایا تاہم ثبوت نہیں دیا گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کونسل کی رپورٹ لکھنے والے جج آصف کھوسہ کی رائے میں ایسا جج جو ایجنسیوں کی طاقت سے خوف زدہ ہو تو یہ اس کے کردار کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور اس پہلو سے اس پر سوالات اٹھتے ہیں ۔
اپنی کارروائی کے دوران کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کی ایجنسیوں کے افسران سے ملاقات پر پانچ سوالات اٹھائے ۔ کونسل کا پہلا سوال تھا کہ شوکت صدیقی اپنی رہائش گاہ پر فوجی افسران سے کیوں ملے؟ فوجی افسران کو عدالتی امور پر کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ ۔ شوکت صدیقی نے فوجی افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی؟ ۔ شوکت صدیقی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیوں آگاہ نہیں کیا؟ ۔ شوکت صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کیوں اعتماد میں نہ لیا؟ ۔

کونسل کی رپورٹ کے مطابق شوکت صدیقی نے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا، انہوں نے خود کو سچا ثابت کرنے کیلئے ملک کی عدلیہ کو بدنام کیا ۔

یاد رہے کہ جسٹس صدیقی کو ہٹانے کی رائے دینے والی کونسل کی رپورٹ لکھنے والے جسٹس آصف کھوسہ، ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے جسٹس نسیم حسن شاہ کے داماد ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے