سارا پیسہ انڈیا جا رہا ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے بھارتی ڈی ٹی ایچ کی پاکستان میں اسمگلنگ اور مارکیٹوں میں فروخت کو روکنے کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اور عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے بھارتی ڈی ٹی ایچ کی سمگلنگ روکنے کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گرے ٹریفکنگ کالز ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے سے ہٹ کر ایک اور معاملہ بھی ہے، لاہور کی مارکیٹوں میں جادو کا ڈبہ فروخت ہو رہا ہے، یہ ٹی وی باکس ہے جس کے ذریعے انڈین چینلز آ رہے ہیں اور سارا پیسہ انڈیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت کہاں ہے، یہ ہمارے کرنے کا کام تو نہیں ۔ ایف بی آر، کسٹم ڈیپارٹمنٹ اور پیمرا کہاں ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ پیمرا سے معلق معاملہ نہیں، یہ باکس اسمگلنگ سے آتے ہیں ۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ آن لائن شاپنگ کے ذریعے بھی ایسا سامان آتا ہے، ہم نے آن لائن شاپنگ کے ذریعے چائنا سے آنے والی منشیات بھی پکڑی ہیں ۔

عدالت نے بھارتی ڈی ٹی ایچ کی اسمگلنگ اور فروخت کو روکنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی جس میں ممبر کسٹم اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے شامل ہوں گے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کمیٹی جنگی بنیادوں پر سنجیدہ اقدامات کرے، کمیٹی پاکستانی مارکیٹوں میں چھاپے مارے اور بھارتی ڈی ٹی ایچ کو قبضے میں لے، ممبر کسٹم کھوج لگائیں بھارتی ڈی ٹی ایچ کی سمگلنگ کیسے ہوتی ہے، عدالت نے کمیٹی سے دس دنوں میں جواب طلب کر لیا ۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل سیکٹر میں سمگلنگ شدہ بھارتی ڈی ٹی ایچ کی پاکستانی مارکیٹوں میں فروخت کے حوالے سے بے شمار شکایات موجود ہیں، ایف آئی اے، پیمرا اور ایف بی آر نے تسلیم کیا کہ سمگل شدہ بھارتی ڈی ٹی ایچ کی پاکستان میں فروخت ہو رہی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان ڈبوں ( بھارتی ڈی ٹی ایچ ) کو تو بند کرواتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا تشکیل کردہ کمیٹی کے اراکین میں سے کسی کے گھر بھارتی ڈی ایچ تو نہیں لگا ہوا، کہیں ایسا نہ ہو کمیٹی کے کسی رکن کے گھر سے بھی بھارتی ڈی ٹی ایچ نکل آئے ۔

متعلقہ مضامین

One Comment

  1. چیف جسٹس صاحب ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتے ھیں ریسیور پر چینل دیکھنا خالص زاتی معاملہ ھے اگر کوئی ایسا ریسیور اور ڈش خریدے جس میں تمام دنیا کے پسند کے ٹی وی چینل دیکھے جاسکتے ھیں تو اس میں برائی کی کونسی بات ھے چیف جسٹس صاحب یہ کمپوٹر کا زمانہ ھے آپ کسی چیز کو بند نہیں کرسکتے البتہ میری تجویز ھے کہ اگر کسی کو بھارتی ڈبہ پسند نہیں تو پاکستان میں بڑے بڑے سرمایہ دار موجود ھیں اس میں سرمایہ کاری کریں اور اپنا ڈبہ بنالیں اور سستا بیچیں تو کوئی پیسہ بھارت نہیں جائیگا شوقین لوگوں پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں اگر کوئی کرکٹ کا شوق رکھتا ھو تو ہر میچ براہ راست دیکھنے کی کوشش کریگا اسطرح فٹ بال ہاکی کے شوقین بھی ایسا ہی چاہتے ھونگے کھیل فلم اور دیگر معلومات کے حلاف کاروائی کرنے سے بہتر ھوگا کہ ملک میں یہ سہولت فراہم کی جائے لوگ تفریح بھی کرینگے اور پیسہ بھی ملک میں ہی رہیگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button