دبئی جائیدادوں والے پاکستانی کون؟

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سینکڑوں میں سے 20 ایسے پاکستانیوں کو عدالت میں پیش کریں جن کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس بیرون ملک ہیں ۔

اس سے قبل ایف آئی اے حکام نے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ۸۵۰ کے لگ بھگ ایسے پاکستانیوں کا سراغ لگایا ہے جن کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں ۔ ایف آئی اے کے سربراہ نے دعوی کیا ہے کہ ان جائیدادوں کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے بھی زائد ہے ۔

اب اٹارنی جنرل انور منصور نے آئندہ سماعت پر طلب کئے جانے کیلئے ۲۰ پاکستانیوں کی ایک فہرست تیار کر لی ہے ۔ اس فہرست میں دبئی میں جائیدادیں رکھنے والوں کے نام ہیں ۔ 20 افراد وقار احمد کی 22، نوشاد ہارون کی 12 اور محمد امین دبئی کی 12 پراپرٹیوں کے مالک ہیں ۔ فہرست کے مطابق زبیر معین 9، شیخ طاہر 8، اسلام سلیم 8 اور آغا فیصل 7 پراپرٹیوں کے مالک ہیں جبکہ مجموعی طور پر 20 پاکستانیوں کی دبئی میں 120 پراپرٹیز ہیں ۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں جو چیزین سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ۸۷۴ افراد میں سے 374 افراد نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے جبکہ150 افراد نے ابھی تک بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہیں کیں ۔ جب کہ 82 پاکستانیوں نے ان کی بیرون ملک میں جائیدادوں کی ملکیت سے انکار کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 69 افراد سے جب ایف آئی اے کے حکام نے تفتیش کی تو اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے ان جائیدادوں کے بارے میں ٹیکس ریٹرنز میں معلومات فراہم کر دی ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستانی کے غیر ملکی بینکوں میں اکاؤنٹس اور بیرون ممالک بنائی گئی جائیدادوں کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سے استفسار کیا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کس کی ذمہ داری ہے اور اس میں تاخیر کیوں ہوئی؟

ڈی جی بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے دو ماہ کے لیے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ان افراد کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہیں کی جا سکی، اب کچھ مہلت درکار ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مزید کتنا وقت درکار ہے، فروری سے مقدمہ چل رہا ہے، نومبر آگیا ہے، مقدمے میں ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی، آپ کے وقت مانگتے مانگتے جنوری آجائے گا ۔ (یاد رہے کہ جنوری میں چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے) ۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کس چیز کا انتظار کر رہی ہے جبکہ اس معاملے میں افراد کی نشاندہی بھی کر کے دے دی ہے، اس بارے میں اگر قانون میں کوئی سقم موجود ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کریں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم 10 نمایاں افراد کو سپریم کورٹ میں لے کر آئیں جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق ان افراد کو گرفتار نہیں کر سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پاکستان نے بیرون ممالک سے اثاثے وطن واپس لانے کے لیے ایک یونٹ قائم کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں جتنی مالیت کی جائیدادیں ان پاکستانیوں کی بیرون ملک ہیں ان سے تو پاکستان میں ایک نیا ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی کو حکم دیا کہ کم از کم ایسے 20 لوگ عدالت میں پیش کریں جن سے عدالت یہ پوچھے کہ یہ جائیدادیں کس طرح بنائیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ سے استفسار کیا کہ کیا عدالت قانون کے مطابق کسی بیرون ملک میں کسی شخص کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کر سکتی ہے جس پر اُنھوں نے کہا کہ وہ بنک کی وہ برانچیں پاکستان کے قانون کے دائرہ دائرہ کار میں نہیں آتیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ سوئس اکاونٹس کی معلومات بھی نہیں مل سکتیں ۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے