ہماری دنیا میں کیا عزت رہ گئی، جسٹس کھوسہ

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے برطانیہ کی جیل سے قیدی کو پاکستان لا کر رہا کرنے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ہمارے ملک کی کیا عزت رہ گئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ صرف اس ایک واقعہ کی وجہ سے اب ہزاروں پاکستانی دنیا بھر کی جیلوں میں سڑ رہے ہیں ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل عدالت عظمی کے دو رکنی بنچ نے ملزمان علی محمد ملک اور قمر عباس گوندل کی بریت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی ۔ یہ درخواستیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف دائر کر رکھی ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قمر عباس گوندل کو برطانیہ میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، یہ سزا ۲۰۱۸ میں مکمل ہونا تھی ۔ معاہدہ کر کے قیدی قمر عباس گوندل کو سزا مکمل کرنے کیلئے پاکستان منتقل کیا گیا ۔ قمر عباس کی برطانوی جیل سے پاکستان منتقلی کے کچھ عرصہ بعد وزارت داخلہ کے سیکشن آفیسر علی محمد ملک کی جانب سے داخل کرائے گئے بوگس کاغذات پر اسے ۲۰۱۱ میں رہائی مل گئی ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پوچھا کہ کیا سیکشن افسر کی جانب سے جیل اتھارٹی کو بھیجا گیا خط موجود ہے؟ ۔ وکیل نے جواب دیا کہ اصل خط نہیں ہے صرف اسکین شدہ فوٹو کاپیاں ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے تو اس معاملے میں سیکشن آفیسر کے کردار سے متعلق ثبوت دینا ہے ۔ فوٹو کاپی یا اسکین کو ہم ثبوت کے طور پر نہیں مان سکتے ۔

جسٹس آصف سعید نے کہا کہ جعل سازی کے ایسے واقعات سے ہماری دنیا میں کیا عزت رہ گئی، اب کوئی ملک ہمارے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں کرنا چاہتا ۔ ایک شخص کے باعث دوسرے ملکوں نے قیدیووں کے تبادلے کے معاہدے معطل کئے، کیا یہ اتنا بااثر شخص ہے کہ ہر کوئی اسے تحفظ دے رہا ہے، قمر عباس کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی، تاحال کوئی ثبوت نہیں دیا گیا کہ اس کی بریت کیسے ہوئی ۔ کسی ملک جاتا ہوں تو وہاں پاکستانی سفیر قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ بحال کرنے کا کہتے ہیں، قیدیوں کے تبادلے معمول کی مشق ہے جو انسانی بنیادوں پر کی جاتی ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف سعید کا کہنا تھا کہ صرف اس واقعہ کی وجہ سے ہزاروں قیدی بیرون ملک جیلوں میں سڑ رہے ہے، ایسے کام کئے جاتے ہیں پھر کہتے ہیں دنیا ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتی ۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ ہم کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ پاکستان کی عزت کا سوال ہے ۔ جسٹس آصف سعید نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اصل دستاویزات پیش کریں وگرنہ ہائیکورٹ کا بریت کا فیصلہ برقرار رہے گا ۔ ملک کی عزت کا مسئلہ ہے اصل دستاویزات پیش کرنے کیلئے ایک موقع دیا جاتا ہے، عدالت کو بتایا جائے کیا واقعی ہائیکورٹ میں دستاویزات کی نقول پیش کی گئیں جس کی وجہ سے ملزمان بری ہوئے؟ نقول پیش کرنے کی بات درست ہے تو یہ بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے ۔

عدالت نے قمرعباس کی رہائی کیلئے وزارت داخلہ کے سیکشن افسر علی محمد ملک کی جانب سے جیل حکام کو بھیجے گئے اصل دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پندرہ روز کیلئے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے