نئے ڈاکو نیا فراڈ

اظہر سید

نہیں معلوم ایک ادارے کے ریٹائرڈ فوجی افسران نے خاموشی سے کتنے پیسے اپنی جیبوں میں ڈالے ہیں ،یا پھر کسی اعلی حاضر سروس عہدیدار کی سفارش تھی یا پھر وارداتیے نے ہنر مندی سے معصوم سابق فوجی افسران کو احمق بنایا ہے بے شمار پاکستانیوں سے کروڑوں روپیہ لوٹ لئے گئے ہیں۔آرمی ویلفئر ٹرسٹ کی ہاوسنگ اسکیم کے اس اسکینڈل کا دی اینڈ گزشتہ روز اس وقت ہوا ہے جب ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح وبہبود کےادارے کی طرف سے ہاوسنگ اسکیم میں فراڈ کرنے والی کمپنی کے دفتر کو اے ڈبلیو ٹی انتظامیہ نے بند کر دیا اور متاثرین کی اشک شوئی کیلئے فراڈ کمپنی کے خلاف کاروائی شروع کر دی۔
آرمی ویلفئر ہاوسنگ اسکیم میں ہونے والے اس فراڈ کی تفصیلات بڑی ہولناک ہیں ۔عام پاکستانی بحریہ کی طرح ڈی ایچ اے اور اے ڈبلیو ٹی پر اعتماد کرتے ہیں پلاٹ خریدتے ہیں اور زیادہ قیمت پر فروخت کی آس میں انتظار کی سولی پر لٹک جاتے ہیں ۔بعض خوش قسمت نفع کما لیتے ہیں بیشتر اپنی تمام جمع پونجی سے محروم ہو کر بے موت مارے جاتے ہیں ۔جو کچھ اسلام آباد میں ڈی ایچ اے ویلی اور ڈی ایچ اے ایکٹنشن کے متاثرین سے ہوا جو کچھ ڈی ایچ اے لاہور کے ایک فیز کے مظلومین کے ساتھ ہوا وہی کچھ اب اے ڈبلیو ٹی اسلام آباد میں ہو گیا ہے ۔
ادارے کے افسران نے ایک نجی کمپنی کو کمرشل پلاٹ ڈویلپ کرنے کا کنٹریکٹ دیا انہیں شراکت داری پر کمرشل پلاٹ دئے ۔ادارہ کے ہیڈ آفس راولپنڈی میں انہیں دفتر کیلئے جگہ دی اور ہاوسنگ اسکیم میں بیت بڑا دفتر قائم کرنے کیلئے بھی اراضی فراہم کی ۔یہ کمپنی پورے ایک سال تک لوگوں سے فلیٹ ،دوکانوں اور تعمیر شدہ گھروں کی فراہمی کیلئے بکنگ کے نام پر پیسے وصول کرتی رہی ۔ادارہ کے جن اعلی ریٹائرڈ فوجی افسران نے اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا کمپنی کے دفتر میں نصب ٹی وی سکرینوں پر اس کی فلم مسلسل چلتی ۔معاہدہ کی تقریب میں جن ریٹائرڈ افسران نے شرکت کی ان کی بڑی بڑی تصاویر دفتر میں لگی ہوئی تھیں ۔بھولے بھالے۔معصوم پاکستانی اپنے گھر کے خواب لئے یہاں آتے بکنگ کراتے اور خوشنما وعدوں کے ساتھ چلے جاتے ۔
فوجی ادارہ کا نام دھڑلے سے استمال ہوتا رہا ۔تمام بڑے اخبارات میں نصف صفحہ کے اشتہارات شائع ہوتے رہے ۔اندرون ملک اور بیرون ملک مرغے پھنسے رہے ادارے کے کسی عہدیدار کو خیال نہیں آیا ۔جب اچھی طرح کمائی ہو گئی بے شمار لوگوں کی جیبیں خالی کر دی گئیں اور چند لوگوں کی جیبیں بھر گئیں ادارہ کے افسران نے کاروائی ڈال دی ،فراڈ کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر کا ڈول ڈال دیا ۔چڑیاں کھیت چگ گئی ہیں، لوٹنے والے لوٹ کر اسی طرح فرار ہو گئے جس طرح ڈی ایچ اے ویلی والے فرار ہوئے تھے ۔اب کیا ہو گا ؟میڈیا میں شور مچے گا ،جس طرح میڈیا کے اشتہارات بند کر کے اس کی کمر توڑی گئی ہے ہم نہیں سمجھتے میڈیا اس اسکینڈل کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھے گا ۔ممکن ہے کوئی بابا رحمتے سو موٹو لے لے ریٹائرمنٹ سے پہلے بابے افتخار چوہدری کی طرح ہیڈ لائین لگوا لے بلے بلے کروا لے لیکن جس طرح مہنگے اسکولوں کی فیسوں کا معاملہ ہوا تھا یہاں بھی وہی کچھ ہو گا ،”گرمیوں کی چھٹیوں پر ہم نے صحافی ہوتے ہوئے بھی بابے رحمتے پر اعتبار کر لیا اپنا لالچ بھی تھا بچوں کی فیس جمع نہیں کرائی سکول کھلے تو دو بچوں کی فیس کی مد میں چار ماہ کی ایک لاکھ 33 ہزار فیس جمع کرائی تو جان بخشی ہوئی”
آرمی ویلفئر ٹرسٹ میں ریٹائرمنٹ کے بعد سسٹم کے تحت ملازمت حاصل کرنے والے اعلی فوجی افسران نے معصوم پاکستانیوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کیا ۔انہوں نے ایک فراڈیئے کے ساتھ معاہدہ کیا ۔اس کو لوٹ مار کرنے کے پورے پورے مواقعے فراہم کئے جب لوٹ مار مکمل ہو گئی کاروائی ڈال دی ۔دفتر سیز کیا تو پتہ چلا دفتر کی تمام گاڑیاں کرائے کی تھیں ،خبر ملی خوبصورت خواتین جو فرنٹ ڈیسک پر مرغے پکڑنے میں مدد دیتی تھیں چند ہزار ماہانہ پر ملازم تھیں ۔جو سریا اور بجری بنانے والا پلانٹ تھا وہ پانچ ہزار روزانہ کرایہ کا اور سریا ادھار کا تھا۔جس کے اکاونٹ میں پیسے منتقل ہو رہے تھے وہ اکاونٹ ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیادوں پر خالی ہو رہا تھا۔
پاکستانی پہلے بھی لٹتے رہے ہیں اب پھر لٹ گئے ہیں ۔ہم صرف خبر دے سکتے ہیں اور کئی دفعہ خبر کی قیمت بھی ادا کرنا پڑھتی ہے ہم قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔بعض ریٹائرڈ افسران نے ادارہ کا نام استعمال کیا ان کے خلاف کاروائی ہونا چاہے ۔آرمی ویلفئر ہاوسنگ اسکیم ایک بہترین منصوبہ ہے یہاں بجلی ،پانی گیس اور تمام سہولتیں موجود ہیں ۔موٹر وے انٹر چینج بھی ہاوسنگ اسکیم کے اندر ہے ۔چار دیواری ہے پانچ منٹ کے فاصلے پر جی 14 میں پلاٹ کی قیمت 2 کروڑ سے زیادہ ہے یہاں وہی 10 مرلہ کا پلاٹ 30 سے 40 لاکھ کا ہے ۔جن لوگوں کی نا اہلی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اس ہاوسنگ اسکیم کا نام خراب کیا گیا ہے ان کے خلاف کون کاروائی کرے گا ؟اگر معصوم ملازمہ پر تشدد کرنے والی میجر عمارہ کے خلاف کاروائی ہو گئی تو یہاں بھی کاروائی ہو جائے گی۔
پاک فوج کے افسران اور جوان مادر وطن کی حفاظت کیلئے اپنے گرم خون سے جو عزت اور احترام حاصل کرتے ہیں بعض لوگ اپنے لالچ اور نہ ختم ہونے والی حرص سے اس عزت اور احترام کو نقصان پہنچاتے ہیں قصور دو تین لوگوں کا ہوتا ہے حرف تمام ادارے پر آتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے