توہین اور آزادی اظہار کی جائز حد

یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے فیصلہ دیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین ‘آزادیِ اظہار کی جائز حدوں سے تجاوز کرتی ہے،’ اور ‘اس کی وجہ سے تعصب کو ہوا مل سکتی ہے اور اس سے مذہبی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔’

بی بی سی کے مطابق عدالت نے یہ آبزرویشن پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے والی آسٹریا سے تعلق رکھنے والی ای ایس نامی خاتون کے خلاف سزا کے فیصلے کی اپیل پر دی ہے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ ای ایس کے خلاف فیصلہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ ججوں کے سات رکنی پینل نے دیا۔

فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں واقع عدالت کے فیصلے کے مطابق آسٹریا کی عدالت نے خاتون کو سزا دیتے وقت ‘ان کی آزادیِ اظہار اور دوسروں کے مذہبی احساسات کے تحفظ کے حق کا بڑی احتیاط سے توازن برقرار رکھا ہے۔’

ملزم خاتون (جن کا نام ظاہر نہ کر کے انہیں صرف ای ایس کہا جاتا ہے) نے 2008 اور 2009 میں ’اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات‘ کے عنوان کے تحت مختلف تقاریر میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں چند کلمات ادا کیے تھے جن کی پاداش میں ان پر ویانا کی ایک عدالت میں مقدمہ چلا اور عدالت نے انھیں فروری 2011 میں مذہبی اصولوں کی تحقیر کا مجرم قرار دیتے ہوئے 480 یورو کا جرمانہ، بمع مقدمے کا خرچ، عائد کر دیا ۔ اس فیصلے کو آسٹریا کی اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا ۔

اس کے علاوہ 2013 میں سپریم کورٹ نے بھی اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا ۔  عدالت برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ آسٹریا کی عدالت کا فیصلہ ‘مذہبی امن و امان برقرار رکھنے کا جائز مقصد ادا کرتا ہے ۔’

اپنے فیصلے میں کورٹ نے کہا کہ ‘عدالت کو معلوم ہوا کہ مقامی عدالتوں نے سائل کے بیانات کا بھرپور جائزہ لیا اور انھوں نے ان کی آزادیِ اظہار اور دوسروں کے مذہبی احساسات کو حق کے درمیان بڑی احتیاط سے توازن برقرار رکھا ہے، اور آسٹریا میں مذہبی امن و امن برقرار رکھنے کے جائز حق کی پاسداری کی ہے۔’

اس کے بعد ای ایس نے یورپی یونین کے قانون کی انسانی حقوق کے بارے میں شق کا سہارا لیتے ہوئے یورپی عدالت میں اپیل کی تھی کہ مقامی عدالتیں ان کی آزادیِ اظہار کے حق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

تاہم ای ایچ سی آر نے فیصلہ صادر کیا کہ ای ایس کے ‘بیانات معروضی بحث کی جائز حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور انھیں پیغمبرِ اسلام پر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے تعصب کو ہوا مل سکتی ہے۔’ یورپی عدالت نے قرار دیا کہ شق 10 کے تحت اس خاتون کے حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے