بربادی کے نقیب

اظہر سید

پاکستان کے دشمن بہت شاطر ہیں ۔پاکستان کو بیل آوٹ پیکیج بھی دے دیا اور چین سے بیل آوٹ پیکیج لینے سے روک بھی دیا۔سارا کھیل امریکہ اور چین کے درمیان معاشی سبقت کا ہے ۔سی پیک چینیوں کی معاشی سبقت کی ضمانت ہے ،دنیا کے معیشت پر قابض یہودی لابی کو یہ منظور نہیں ۔امریکی کچھ نہیں بیچتے سب کچھ یہودی بیچتے ہیں ۔تمام مغربی ممالک میں یہودی لابی طاقت کی اصل علامت ہے ۔پورے یورپ میں ،امریکہ میں ہالو کاسٹ کے خلاف بات کرنا ممنوع ہے ۔توہین رسالت کی اجازت ہے لیکن ہالو کاسٹ کے خلاف بات کریں تو تحریر و تقریر کی آزادی گھاس چرنے چلی جاتی ہے ۔پاکستان میں فرینڈز آف اسرائیل کے مرکزی عہدیدار کا گہرا دوست وزیراعظم ہے ۔جمائیا گولڈ سمتھ کے بھائی کی وزیراعظم بننے پر مبارک باد کی ٹویٹ سوشل میڈیا پر موجود ہیں ۔وزیراعظم کی مئیر لندن کے انتخاب کے موقع پر فرینڈز آف اسرائیل کے مرکزی راہنما کی حمایت بھی ریکارڈ پر موجود ہے ۔
شاطر دماغ اکیلے نہیں پاکستان میں ان کے دوست موجود ہیں ۔معیشت کو اس منظم انداز سے تباہ کیا جا رہا ہے کہ سعودی پیکیج کے بعد آئی ایم ایف پیکج آئے گا اور سی پیک کے تابوت میں مضبوط اسٹیل کی کیلیں ٹھونکی جائیں گی ۔سعودی آزاد نہیں وہ خود آئی ایم ایف سے 10 صرف 10 ارب ڈالر کا پیکیج لے رہے ہیں ۔کسی کو یقین نہیں آتا خود آئی ایم ایف کی ویب سائٹ دیکھ لے ۔پیکیج کیلئے سعودی وزارت خزانہ اور فنڈز کے درمیان بات چیت مکمل ہو چکی ہے ۔جو ملک خود مالی بحران کا شکار ہو وہ کس طرح پاکستان کو بیل آوٹ پیکیج دے سکتا ہے۔سعودیوں کو تیل کی قیمت بڑھانے کی بھی اجازت نہیں اور نہ پیدوار کم کرنے کی 47 ڈالر بیرل کی قیمت پر پیداوار میں ایک بیرل کی کمی کریں گے تو امریکیوں نے انہیں گردن سے پکڑ رکھا ہے ۔پاکستان کو ملنے والا پیکیج سعودیوں کا نہیں بلکہ اس لابی کا ہے جو پاکستان کو چین سے بیل آوٹ پیکیج لینے سے روکنا چاہتی ہے ۔
سعودیوں کے 750 ارب ڈالر امریکی بانڈز کی خریداری میں صرف ہوئے ہیں اب ان بانڈز پر منافع بھی روک دیا گیا ہے بلکہ نائین الیون کے متاثرین کی سعودی حکومت کے خلاف ہرجانے کی امریکی عدالت میں درخواست پر سعودی حکومت عملی طور پر ان 750 ارب ڈالر سے محروم بھی ہو چکی ہے ۔امریکی سینٹ کی قانون سازی کی آڑ میں جب تک ہرجانے کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا سعودی ایک ڈالر کا بانڈ بھی فروخت نہیں کر سکتے تو پھر یہ کس طرح پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا پیکیج دے سکتے ہیں ۔سب فراڈ چل رہا ہے پوری قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔معیشت کو شاطرانہ طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے ہمارے پاس دلائل ہیں ۔
نمبر ایک شرح سود میں اضافہ ۔اس فیصلہ کا پہلا نشانہ حصص بازار بنا ہے ۔چھوٹا سرمایہ کار جو مارکیٹ بناتا ہے وہ اب حصص بازار میں کام کرنے کی بجائے بینکوں میں پیسے رکھنے کو ترجیع دے گا جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھول کر بھی یہاں کا رخ نہیں کرے گا۔وہ مارکیٹ جو 57 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی تھی وہ 30 ہزار سے 37 ہزار کے درمیان کام کرے گی اور جوں جوں معاشی افراتفری بڑے گی حصص بازار بھی توں توں تباہ ہوتا جائے گا اور کوئی بعید نہیں مارکیٹ کے تحفظ کے نام پر بازار بند کرنے کی نوبت آجائے۔
نمبر دو ۔بہت مکاری اور ہنر مندی سے رئیل اسٹیٹ اور گاڑیوں کی خریداری کیلئے ٹیکس دہندہ ہونے کی شرط عائد کر دی گئی ہے ۔کوئی جائے اور ملک کے ایک بڑے کار مینو فیکچرر سے پوچھے اس کا کیا حال ہے ۔اس کی کار کا اون تین سے چار لاکھ روپیہ تھا ۔ڈیلرز نے فی کار پانچ لاکھ روپیہ جمع کرایا تھا یعنی بکنگ ،اس بکنگ کے عوض سیٹھ نے تین ارب روپیہ کے درآمدی ارڈر مکمل کر لئے اور ایک ارب روپیہ کے مقامی یونٹ تیار کر لئے ڈیلر اب کاریں نہیں اٹھا رہے سیٹھ کے چار ارب روپیہ نہیں پھنسے پوری آٹو مارکیٹ بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔وینڈرز کو نئے آرڈرز ملنا بند ہو گئے ہیں ۔چار مینو فیکچرر بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں باقی بینکوں کے قرضوں کے مارے ہوئے ہیں ۔
رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سناٹا چھایا ہوا ہے ۔خرید فروخت تقریبا بند ہو چکی ہے ۔سب سے زیادہ کام بحریہ میں ہوتا تھا پورے ملک میں بحریہ کی تمام ہاوسنگ اسکیموں میں قیمتیں اتنی تیزی سے کم ہو رہی ہیں خوف آرہا ہے کہیں پاکستان کو کچھ نہ ہو جائے ۔
سب سے خبیث اور کمینہ فیصلہ روپیہ کی قیمت میں کمی کا تھا اور یہ فیصلہ انہوں نے کرایا جو پاکستان کی معاشی تباہی کے ذریعے سی پیک کو روکنا چاہتے تھے۔غضب خدا کا 104 روپیہ سے بات 137 روپیہ تک چلی گئی اور جنہوں نے چار سال تک روپیہ کی قیمت کم نہیں کی وہ غدار اور مودی کے یار جنہوں نے مختصر مدت میں تباہی پھیر دی پہلے کہتے تھے انہیں ایک موقع دو اب کہتے ہیں انہیں پانچ سال کام تو کرنے دو ۔
جس ملک کی درآمدات زیادہ ہوں وہاں کرنسی کی قیمت میں کمی کرنا بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے ۔کرنسی میں کمی برآمدات میں اضافہ کیلئے کی جاتی ہے تو جہاں برآمدات درآمدات پر انحصار کرتی ہوں وہاں برآمدات میں اضافہ ممکن ہی نہیں ہوتا آپ توانائی میں خود کفیل نہیں 70 فیصد پٹرول درآمد کرتے ہیں تو کرنسی کی قیمت کم کرنے سے آپ کی درآمدات کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور برآمدات کی پیداواری لاگت بڑھے گی اور یہ کارنامہ تبدیلی کے نام پر کر دیا گیا ہے ۔
فراڈیئے ملک کو منظم انداز میں تباہ کر رہے ہیں حتمی ہدف فی الحال سی پیک ہے بعد میں معاشی بحران ایٹمی پروگرام کی طرف بھی جا سکتا ہے ۔سمجھ نہیں آرہا ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے محافظ کیا کر رہے ہیں ۔تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر پورے ملک میں افراتفری پیدا کر دی گئی ہے ۔سعودی دورہ سے واپسی کے بعد فر مایا کوئی این آر او نہیں ملے گا ۔اپنی اوقات کا خود بھی پتہ ہے لیکن اس طرح کے بیانات کا نشانہ سرمایہ کار بنتے ہیں وہ سیاسی بے یقینی دیکھتے ہوئے فرار ہو جاتے ہیں اپنے پیسے چھپا لیتے ہیں ۔جب آپ کہتے ہیں 50 بڑے لوگ گرفتار ہونے والے ہیں پانچ ہزار لوگ خوف زدہ ہو جاتے ہیں ۔
ایک بہت سادہ بات ہے یہودی لابی جو عالمی معیشت پر قابض ہے وہ سی پیک کو روکنا چاہتی ہے اور یہ سارا کھیل سی پیک کا ہے ۔اگر ایک کارگل کا منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے تو نواز شریف کو فارغ کرنے کا منصوبہ بھی تو ملک کیلئے نیا کارگل بن سکتا ہے اور کوئی بعد میں مشرف کی طرح یہ نہ کہہ دے "ردعمل کا اندازہ نہیں تھا”۔فوجی صدر کے دور میں وزیر خارجہ اسرائیلی صدر سے ملاقاتیں کرے تو حب الوطنی ۔فوج کے سابق اعلی افسران لندن میں بھارتی ہم منصب سے ملیں اور دوسرا اس کے ساتھ مل کر مشترکہ کتاب لکھ مارے تو ملک کے بہترین مفاد کا تحفظ ۔ایک امریکی اخبار نے تین ماہ قبل سٹوری بریک کی تھی پاک فوج کی اعلی قیادت حالات معمول پر لانے کیلئے بھارتی فوجی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اگر یہ بریک سچی تھی تو اس میں بھی یقینی طور پر حب الوطنی ہو گی لیکن سیاسی قیادت چاہے بینظیر بھٹو ہو یا نواز شریف یا محترمہ فاطمہ جناح سب بھارتیوں کے یار اور غدار ٹھہرانے جاتے ہیں ۔
یہاں کوئی غدار نہیں نہ فوجی قیادت نہ سیاستدان بس حب الوطنی کی تشریح کا حق سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ بندوق والوں کے پاس ہے ۔اس ملک کو صرف قومی یکجہتی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے ورنہ جو کچھ چل رہا ہے وہ خرابی لائے گا بہتری نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے