رپورٹر کے سوال پر ڈاکٹر نے موبائل چھین لیا

کرپشن کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو مطلوب سرکاری ٹی وی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہد مسعود نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایک بار پھر ضمانت کرا لی ہے ۔ عدالت نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کی 12 نومبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی ہے ۔

ضمانت خارج ہونے اور گرفتاری کے فیصلے کے خلاف شاہد مسعود کی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی ۔

اس سے قبل ڈاکٹر شاہد مسعود کی درخواست ضمانت اسپیشل جج سنٹرل نے گزشتہ ہفتے مسترد کر دی تھی مگر ایف آئی اے حکام کی ملی بھگت سے پہلے وہ عدالت سے فرار ہوئے اور بعد ازاں ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے تک ان کو گرفتار نہ کیا گیا ۔

ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود میڈیا کے سوالات پر برہم ہوگئے اور نجی ٹی وی کے رپورٹر سے موبائل فون چھین لیا ۔ رپورٹر نے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب، ضمانت مسترد ہونے پر آپ عدالت سے بھاگ کیوں گئے تھے؟

اس سوال پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ آپ کون سے چینل سے ہیں؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے صحافی سے موبائل فون چھین کر فوٹیج ڈیلیٹ کر دی ۔

ہائیکورٹ سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ ڈاکٹر شاہد نے سوال کرنے والے رپورٹر سے کہا کہ آپ نیوز ون چینل آ جاؤ، وہاں آپ کو دیکھ لیتا ہوں ۔

رپورٹرز کے مطابق وکلا کی مداخلت پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے وڈیو ڈیلیٹ کر کے موبائل فون واپس کر دیا جس کے بعد متاثرہ رپورٹر نورالامین نے تھانہ رمنا میں واقعہ پر درخواست جمع کرائی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے