قوم گھڑے کا پانی پیئے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں منرل واٹر کمپنیوں کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کراچی میں نیسلے کمپنی کو دیکھنے گیا تو معلوم ہوا کہ پلانٹ کیلئے زمین بھی مفت دی گئی ہے، غیر معیاری پانی بیچ کر اربوں روپے بنا رہے ہیں، یہ تو دھوکہ دہی ہے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ سماعت کی ۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ پانی بیچنے والی کمپنیوں کیلئے زمین سے نکالے جانے والے پانی کا نرخ مقرر کر رہے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو چیچو کی ملیا سے کوئی واٹر کمپنی آرڈر لے آئے، پانی کی صنعت سے وابستہ اہم افراد عدالتی نوٹس کے بعد بڑے بڑے لوگوں کے پیچھے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کمپنیوں کے مالکان بڑے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ فی لٹر 10 پیسے لے لیں، مجھے سب پتہ ہے، کیوں 10 پیسے لیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پاکستان لوٹ کا مال ہے، جو مقدمات ہم سن رہے ہیں انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے بوتل کا پانی پینا بند کر دیا ہے، میں قوم سے بھی کہوں گا بوتل کا پانی نہ پیئیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قوم سے درخواست کرتے ہیں بوتل والے پانی کے بجائے گھڑے کا پانی پی لیں، منرل واٹر کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس کراچی پورٹ قاسم میں لگے نیسلے کے پلانٹ کے دورے میں معلوم ہوا کہ پانچ ٹیوب ویل لگے ہیں مگر پانی غیر معیاری ہے، یہی معلوم کرنے ایک ماہر کو ساتھ لے کر گیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیسلے کمپنی زمین سے ایک گھنٹے میں 20 ہزار ٹن پانی نکال رہی ہے، اس میں سے کچھ پانی استعمال کرکے باقی دوبارہ زمین میں ڈال دیتی ہے جو بہت خطرناک زہر میں بدل چکا ہوتا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں ٹینکر مافیا سے نجات حاصل کریں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت کا جواب آیا ہے کہ ہمیں پانی کمپنیوں سے رقم لینے کی ضرورت نہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ کابینہ میں معاملہ زیر غور ہے اور فی لٹر پانی پر ڈیڑھ روپے تک لینے کی تجویز ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوئی شعور رکھنے والا 54 روپے کی بوتل لے کر اپنی صحت خراب کرنا چاہے گا، دھوپ میں رہنے کے باعث پلاسٹک کی بوتل سے پانی میں خرابی پیدا ہوتی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیسلے والوں نے اربوں روپے کا پانی مفت میں استعمال کیا، زیر زمین پانی عوامی ملکیت ہے ۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری وکیل نے بتایا کہ کے پی کا کوئی مصدقہ ڈیٹا نہیں کہ کتنا پانی زیر زمین سے نکال کر بیچا جا رہا ہے ۔

عدالت کو ماحولیات کے ایک ماہر نے بتایا کہ منرل واٹر کمپنیاں جو بوتلیں استعمال کر رہی ہیں وہ خوراک کے طے کردہ اصولوں پر پورا نہیں اترتیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک کے عشق میں پانی سمپوزیم میں شرکت کرتے تو پتہ چلتا کہ کیا ہو رہا ہے، پانی کمپنیوں کی اپنی رپورٹ کے مطابق سالانہ ایک ارب بیس کروڑ کا منافع کما رہی ہیں ۔

کیس کی سماعت 13 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے تمام منرل واٹر کمپنیوں کے مالکان کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے