کھل کر کہیں کہ دو بچے پیدا کریں

سپریم کورٹ نے آبادی میں اضافے پر قابو پانے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کو عوام الناس تک پہنچانے اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو تین روز تک مفت تشہیر کی ہدایت کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آبادی کنٹرول آگاہی کی واک کیلئے خود نکلنے کو تیار ہوں ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ عدالت کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے بتایا کہ عدالتی حکم پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں، ان پر عمل کیلئے پہلے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری ضروری ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تیس سال میں آبادی کا کیا حال ہو جائے گا، آبادی 45 کروڑ ہو جائے گی، وسائل کہاں سے آئیں گی، صاف پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کیسے فراہم کریں گے؟
چیف جسٹس نے عدالت میں پیش ہونے والے وزارت صحت کے افسران سے کہا کہ آبادی کنٹرول کیلئے آج ہی آگاہی پھیلانے نکل پڑیں، اس مہم سے دو جوڑے آج رات ہی سوچیں کہ ہم نے آبادی کنٹرول کرنی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے بچوں کو کھل کر کہنا پڑے گا کہ دو بچے پیدا کریں ۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا پڑے گا کہ آبادی کو کنٹرول کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔ چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ آپ سے بھی مجھے مسئلہ ہے، آپ کے بھی ماشا اللہ آٹھ بچے ہیں ۔ اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بیٹے شہباز کو بلا کر کہتا ہوں کہ اب ذرا دھیان سے ۔ عدالت میں موجود لوگ ایک بار پھر ہنس پڑے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی کنٹرول واک پر خود نکلوں گا، آبادی کنٹرول کیلئے سیمینار کرائیں گے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کمیٹی سفارشات کی تین دن مفت تشہیر کرے، حکومت مشترکہ مفادات کونسل سے سفارشات کی منظوری لے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے