نرس کا ۱۰۰ مریضوں کی جان لینے کا اعتراف

جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق نرس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ایک سو مریضوں کو قتل کیا تھا ۔ اکتالیس سالہ نیلز ہوگل پر چھ افراد کے قتل کا الزام ثابت ہوا تھا وہ وہ عمر قید بھگت رہا ہے ۔

جرمن حکام کے  مطابق ہوگل نے دو مختلف ہسپتالوں میں اپنی زیرِ نگرانی مریضوں کو مہلک مقدار میں ادویات دے کر ان کی جان لی تھی ۔ استغاثہ نے ٹرائل کے دوران کہا تھا کہ اس کا مقصد ان مریضوں پر پہلے حملہ کرنا اور پھر ان کے اوسان بحال کر کے اپنے ساتھیوں کو متاثر کرنا تھا ۔

تازہ ترین تحقیقات کے مطابق حکام نے الزام لگایا ہے کہ نیلز نے اولڈن برگ میں 36 اور ڈلم ہورسٹ میں 64 مریضوں کو 1999 سے 2005 کے دوران قتل کیا ۔ ٹرائل کے دوران جب جج نے ملزم سے پوچھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں تو ان کا کہنا تھا ’ہاں تقریباً!‘

یہ موجودہ مقدمہ تقریباً مئی کے مہینے تک جاری رہے گا۔ اس میں 130 لاشوں کے بقایاجات کا سائنسی معائنہ پیش کیا جانا ہے ۔

بی بی سی کے مطابق جرمنی میں ہیلتھ حکام کے لیے یہ کیس انتہائی حساس ہے کیونکہ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے نیلز ہوگل کی کارروائیوں کو نظر انداز کیے رکھا۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے نیلز ہوگل نے اس سے بھی زیادہ لوگوں کو قتل کیا ہو تاہم ان کی لاشوں کو آخری رسومات کے دوران جلا دیا گیا تھا ۔

2005 میں نیلز ہوگل کو ڈلم ہورسٹ میں ایک مریض کو غیر تجویز کردہ دوا دیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ انھیں 2008 میں اقدامِ قتل کے جرم میں سات سال قید کی سزا دی گئی تھی ۔ ہوگل کے مطابق اس نے دل کی گہرائی سے معافی مانگی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ لواحقین کو چین مل جائے گا ۔ ہوگل نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ جرائم سرزد کرنے کے فیصلے سوچ سمجھ کر نہیں بلکہ موقعے پر ہی کیے ۔

تاہم مقدمے کے دوران انھوں نے ایک ماہرِ نفسیات کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے 30 لوگوں کو قتل کیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے