کس کے ہاتھ پے اپنا لہو تلاش کریں

اظہر سید

ہم جنرل ایوب کے دور میں سیاستدانوں کو بدعنوان اور کرپٹ قرار دے کر انہیں ایبڈو کرنے اور 11 سال طمطراق سے حکومت کرنے کی بات کریں گے ۔ہم جنرل یحیی کے دور میں بدقماش خواتین کے ساتھ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بعض جنرلوں کی سنگین اور رنگین داستانوں اور سانحہ مشرقی پاکستان کا بھی ذکر کریں گے ۔ہم جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے کراچی میں ایم کیو ایم کا عفریت پیدا کرنے ،جی ایم سید کے ساتھ پینگیں بڑھانے ،سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو فرنٹ لائین ریاست بنانے اور مذہبی انتہا پسندی کے جن کو بوتل سے نکالنے اور فرقہ واریت کے فروغ کے اقدامات کو کیسے بھلائیں اورہم متنازعہ مذہبی قوانین کی تشکیل کو کیوں نظر انداز کریں ۔
محترمہ بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کیلئے جنرل حمید گل نے جس طرح اپنے حلف سے انحراف کیا اور آئی جے آئی کی تشکیل کی اور اس سے بھی پہلے بھٹو کے خلاف 9 ستاروں کے اتحاد میں جنرل جیلانی نے جو کردار ادا کیا نظام مصطفی کے نام پر جو ہنگامہ برپا کیا گیا سب کچھ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے ۔جنرل مشرف کے کارگل کی ناکامی ایسا مس ایڈونچر کسی مہذب جمہوری ملک میں ممکن ہی نہیں اور پاکستان ایسے ملکوں میں اس طرح کے کارگل کی ادارہ جاتی تحقیقات کا عمل چین آف کمانڈ کیلئے خطرات کا باعث ہو سکتا ہے اس لئے اسی کوئی کوشش ادارہ کی طرف سے ہوتی ہی نہیں اور اگر کوئی سویلین یہ بھاری پتھر اٹھانے کی کوشش کرے تو وہ چاہے اوجڑی کیمپ کا سانحہ ہو یا کارگل سول حکومتیں کیا بیچتی ہیں جونیجو اور نواز شریف کو گھر بھیج دیا جاتا ہے ۔غداری کا الزام تو مجرب نسخہ ہے کرپشن اور بدعنوانی اضافی ادویات ہیں ۔
کہنے کو عدلیہ ریاست کے تین مرکزی ستونوں میں سے ایک ہے اور میڈیا کو الیکٹرانک سوشل میڈیا کے انقلاب کی وجہ سے چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے ۔مقننہ یعنی پارلیمنٹ کو انتظامیہ یعنی فوج نے عدلیہ اور میڈیا کے ذریعے ہمیشہ جس طرح شکست سے دوچار کیا ہے وہ بھی خاصے کی چیز ہے جس میں عوام کے مذہبی جذبات کو ہنر مندی سے مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے ذریعے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کیلئے استمال کیا جاتا ہے۔اس میں حلیف بدلتے ہیں لیکن منزل نہیں بدلتی ۔جنرل ایوب اور جنرل یحیی سے جنرل ضیا الحق تک افرادی قوت کی نرسریاں مدارس اور جماعت اسلامی کو استمال کیا گیا ۔جنرل مشرف نے اچھے اور برے طالبان کے ذریعے اہداف حاصل کئے اور اب نئے حلیف لیبیک اور ملی نام کی مذہبی جماعتوں کو حلیف کا درجہ ملا ہے ۔یہ کھیل اگر جاری رہا تو مستقبل میں کسی اور نام کے جنرل ہونگے اور کسی اور نام کے نواز شریف اور عمران خان بنائے جائیں گے اور کسی نئے نام کے مولوی خادم حسین ہونگے ۔
یہ کھیل ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔نئی بوتل میں پرانی شراب مزید فروخت نہیں ہو سکتی ۔ریاست کمزور ہو رہی ہے ۔افرادی قوت کیلئے مدارس کی جو پنیری اگائی جاتی تھی اس کی کھپت پہلے کشمیر اور افغانستان میں ہو جاتی تھی اب یہ نکاسی بند ہو رہی ہے لیکن افرادی قوت دھراڈھر تیار ہو رہی ہے ۔جو لاکھوں طلبہ درس نظامی یا دیگر علوم کی اسناد لے کر مارکیٹ میں آرہے ہیں انکی کھپت کہاں ہو گی ؟ یہاں ہر سال بے روزگار انجینیر اور ڈاکٹر پیدا ہو رہے ہیں اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر کیلئے ملازمتیں موجود نہیں انہیں کون ملازمت فراہم کرے گا اور کیونکر ملازمت ملے گی ۔کیا ان مولویوں کیلئے مساجد کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا یا پھر انہیں کسی بھی معاملہ پر پوری ریاست کو یرغمال بنانے کے مواقع ملتے رہیں گے ۔
ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کردی ہے جو "شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن” پر ایمان رکھتی ہے ۔ایم کیو ایم والوں کو شکست دینا ممکن تھا ۔طالبان کی دہشت گردی کی وجہ سے اور پر امن پختونوں کی حمایت سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ بھی جیتی جا سکتی تھی ۔بلوچستان میں پختون بلوچ آبادی کے تناسب کی وجہ سے وہاں بھی وفاق کیلئے خطرات کا باعث بننے والی قوم پرستی سے نپٹا جا سکتا تھا لیکن مدارس کی افرادی قوت سے نپٹنا لوہے کے چنے ثابت ہو سکتا ہے۔
حلف نامے میں تبدیلی کے نام پر جس طرح نواز شریف کو ہدف بنایا گیا ۔فیض آباد دھرنے میں ریاست کی رٹ کمزور کی گئی ۔وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے جواز فراہم کئے گئے اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکے کے عمل کو حلف نامے میں تبدیلی سے جوڑا گیا،نواز شریف سے نجات حاصل کر لی گئی لیکن جن بوتل سے نکال دیا گیا۔یہ پورے ملک میں ہیں آپ نے ان کے منہ کو خون لگا دیا ہے ۔پہلے ہدف جنرل۔حمید گل کا فخر نواز شریف تھا اب ہدف جنرل شجاع پاشا کا فخر ہے ۔
معیشت برباد ہو رہی ہے اس کو سنبھال نہ پائے تو نشانہ ریاست نہیں اس کے ادارے بھی اسی طرح نشانہ بنیں گے جس طرح سوویت یونین کی فوج بنی تھی ۔معاشی استحکام افراتفری اور مذہبی جنونیت سے نہیں قومی یکجہتی اور تمام ریاستی اداروں کے درمیان میثاق معیشت سے آئے گا۔پاکستان کا مفاد عزیز ہے تو دینی مدارس کے متعلق قومی فیصلے کرنا ہونگے ۔اب ان نرسریوں سے حاصل ہونے والی فصل سرحد پار برآمد کرنا اب ممکن نہیں یا مدارس سے فارغ ہونے والے طلبا کو روزگار کی فراہمی ممکن بنانے کی حکمت عملی تشکیل دی جائے یا پھر معاشرہ میں نئے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بجائے ان نرسریوں کی مش روم گروتھ روکی جائے۔
اگر ریاست کا تحفظ ہدف تھا تو ریاست باہر سے محفوظ ہو چکی ہے سوویت یونین کے بعد امریکیوں کو بھی ناکامی کا پھل کھانے پر مجبور کر دیا ہے ۔بھارتی بھی ایٹمی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی جرات نہیں کریں گے البتہ محدود جنگ کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔لیکن مسلہ یہ ہے اب ریاست کو اندر سے خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔میڈیا کا گلہ گھونٹے کا عمل شتر مرغ جیسا ہے جو ریت میں سر چھپا کر خطرہ سے نجات حاصل کرتا ہے ۔معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی سے عام شہری عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں ۔سابقہ پالسیوں سے نجات حاصل کرنے کا وقت ہے اور مل بیٹھ کر یکساں حکمت عملی سے ملک کو بحران سے بچانے کا وقت ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے