اعظم سواتی کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کا تحریری معافی نامہ مسترد کر دیا ہے ۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے میں اعظم سواتی کے اثر و رسوخ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقات ٹیم تشکیل دیدی ہے ۔ تین رکنی جے آئی ٹی دو ہفتوں میں عدالت میں رپورٹ دے گی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے اعظم سواتی کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری معافی نامہ مسترد کر دیا ۔

اعظم سواتی کے وکیل نے کہا کہ سواتی نے قانون میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا قانون یہ کہتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں ماں باپ اور بچوں کو پکڑ کر اندر کرا دیا جائے؟ کیا متاثرہ فیملی ان کے مقابلے کے لوگ تھے، ایسے لوگ ملک چلائیں گے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بطور قاضی ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمرہ عدالت میں اعظم سواتی کی ویڈیو بھی دکھائی جائے گی، اس کیس میں مسئلہ یہ ہے کہ جیسے حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں کیس میں تفتیش کو رہنے دیں، آرٹیکل 62 ون ایف کااطلاق کر دیتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وضاحت کریں کیوں نہ اعظم سواتی کو نااہل کر دیں، نیک پارسا،صادق اور امین سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں ۔ سپریم کورٹ نے آئی جی تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ۔ جے آئی ٹی میں انٹیلی جنس بیورو سے احمد رضوان، ایف آئی اے سے میر واعظ نیاز اور ڈی جی نیب شامل ہیں ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ جے آئی ٹی کی سربراہی تینوں افسران میں سے سینئر آفیسر کرے گا اور جے آئی ٹی دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ دے گی ۔ عدالت نے قرار دیا کہ جس طریقے سے تبادلہ ہوا اس پر عدالتی کارروائی جاری رہے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے