مولانا سمیع الحق قتل

جمعیت علمائے اسلام کے اپنے گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق مولانا کو تیز دھار آلہ سے قتل کیا گیا اور قاتل قریبی لگتے تھے ۔ پولیس کے مطابق شواہد سے لگتا ہے کہ مولانا پر حملہ کرنے والے قاتل پہلے بھی ان سے ملنے آتے رہے جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پر سکون ہو کر باہر نکل گئے تھے ۔

مولانا سمیع الحق کی عمر ۸۰ سال کے لگ بھگ تھی اور وہ حملے کے وقت گھر میں اکیلے تھے، حملہ آوروں نے پہلے پانی بھی پیا جس کے خالی گلاس موقع پر موجود پائے گئے ۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے شلوار قمیض پہن رکھے تھی جو موٹرسائیکل پر سوار ان کے گھر آئے، معاملہ زاتی ذشمنی لگتی ہے ۔

سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو آسیہ مسیح کیس سے توجہ ہٹانے کیلئے قتل کیا گیا ۔ مولانا سمیع الحق شہید کا نماز جنازہ کل اکوڑہ خٹک میں 2 بجے دوپہر ادا کیا جائے گا ۔

مولانا سمیع الحق پاکستان میں اکوڑہ خٹک مدرسے کے سرپرستِ اعلیٰ اور جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ تھے ۔ سمیع الحق راولپنڈی کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں سفاری ون ولاز میں رہائش پذیر تھے۔

مولانا سمیع الحق کے پوتے عبدالحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راولپنڈی میں اپنے مکان میں اکیلے تھے جب نامعلوم شخص نے ان کو چھریوں سے وار کر کے قتل کیا ۔ عبدالحق کا کہنا تھا کہ مولانا اکیلے تھے اور ان کے محافظ اور ڈرائیور مکان سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق کے گن مین اور ڈرائیور کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں کسی کام سے باہر گئے تھے اور عام طور پر اکٹھے باہر نہیں جاتے ۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ انھوں نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہم صورتحال پر جلد قابو پالیں گے۔’

مولانا سمیع الحق کی لاش کو راولپنڈی ڈی ایچ کیو منتقل کیا گیا ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن میں واقع سفاری ہسپتال کے باہر بھی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے ۔

مولانا سمیع الحق کا مدرسہ حقانیہ دارالعلوم دیوبند کے بعد دیوبندی مکتہ فکر کا سب سے اہم مدرسہ گردانہ جاتا ہے ۔ دارالعلوم حقانیہ کو 1990 کی دہائی میں افغان جہاد کی نرسری تصور کیا جاتا تھا ۔ مولانا دو مرتبہ پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے