دھرنے کا سبق

پاکستان میں برسوں کے احتجاج، دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ سے کون کیا سبق سیکھتا ہے؟ یہ ہر ایک کی اپنی صوابدید ہے کیونکہ ریاست نے آج تک کچھ نہیں کیا اور نہ مستقبل میں کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

ملک میں ایک طبقہ دوسرے کو لبرل اور دوسرا پہلے کو شدت پسند مذہبی جنونی قرار دیتا ہے ۔ یہ دونوں طبقے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اسٹریٹیجی تبدیل کرتے ہیں ۔ سیاسی جماعتیں، پارلیمان، عدالتیں، فوج اور میڈیا بھی یہ سب دیکھتا اور دکھاتا ہے مگر اپنی ضرورت کے مطابق اپنے زاویے سے ۔

اس سب میں اہم چیز ٹائمنگ ہوتی ہے ۔ گزشتہ برس نومبر کے دھرنے میں چونکہ نشانہ نواز شریف، اس کی جماعت اور حکومت تھی تو فوجی ترجمان، عمران خان، ان کی جماعت تحریک انصاف اور عدالت کا ردعمل مختلف وجوہات کی بنا پر مختلف تھا ۔

بانوے نامی ایک نیوز چینل نے اس وقت دھرنے کو کفر و اسلام کی جنگ قرار دیا تھا ۔ پولیس کو کافروں کی فوج اور لٹھ بردار مولوی کو مظلوم مسیحا دکھایا گیا ۔ اس چینل کی گاڑیوں میں دھرنا باز مولویوں کیلئے راشن پہنچایا جاتا رہا مگر حالیہ دھرنے میں یہ چینل مکمل مسلمان ہو چکا تھا ۔ صرف گیارہ ماہ اور دو دن میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟ اب کون بیٹھ کر تجزیہ کرے، کس کو اتنی فرصت؟ ۔ کون بتائے کہ پچھلے نومبر میں پیمرا نے اس چینل کے خلاف ایکشن لیا تو کس کس نے کہاں کہاں سے فون کر کے سرکاری ملازموں کو دھمکیاں دیں ۔

نومبر دو ہزار سترہ میں دھرنے باز اسٹیج سے مسلم لیگ ن کے وزرا کو مارنے، ان کے گھر جلانے کے فتوے دے رہے تھے تو فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ دونوں فریق طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کیا جائے ۔ اس وقت فوج کو ختم نبوت کی محافظ بھی قرار دیا گیا ۔

دوہزار اٹھارہ کے حالیہ دھرنے میں فوج کے سربراہ کو کافر اور چیف جسٹس سمیت تین ججوں کو واجب القتل قرار دینے کا فتوی آیا تو فوج کے ترجمان کو اس طرح کی زبان کے استعمال پر افسوس ہوا ۔ انہوں نے آئین و قانون کی دی گئی اجازت کے مطابق کارروائی پر مجبور نہ کرنے کی بھی بات کی ۔

متحرک ترین عدالت کا حال بھی کچھ مختلف نہیں بلکہ زیادہ پریشان کن ہے ۔ وہ عدالت جو فیصل رضا عابدی کی معمولی باتوں اور سیاست دانوں کے بیانات پر سو موٹو کی تلوار سونت کر میڈیا پر آ جاتی ہے اور ملزم کو ناگ رگڑنے یا جیل بھیجنے کا حکم دیتی ہے اپنے ہی قتل کے فتووں پر دم سادھے بیٹھی ہے ۔

ریاست چونکہ ایٹمی طاقت رکھتی ہے اور اس کے پاس حب الوطنوں اور عاشقان رسول کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے اس لئے وہ اس حساب کتاب میں نہیں پڑتی کہ کس واقعہ سے کیا سبق حاصل کیا جائے ۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو مستقبل میں ان اثاثوں میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے ۔

بطور شہری ہم سب ایک سبق ضرور سیکھ چکے ہیں ۔ وہ یہ کہ ریاست صرف طاقتور کی بات مانتی ہے ۔ اس کو پرامن، قانون پسند اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شہریوں کو تحفظ دینے یا ان کے جان و مال – عزت آبرو کو محفوظ بنانے سے کوئی غرض نہیں ۔ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گاڑی جلانے والا اگر ‘محب الوطن’ یا ‘عاشق رسول’ ہے تو خاکستر بس/کار یقینا غدار اور کافر ہی ہوگی ۔ اس لئے کان اور آنکھ بند کر لیتی ہے ۔

تو دو ہزار اٹھارہ کے اختتام سے قبل سبق یہ ہوا کہ ریاست کے کسی ادارے، محکمے، حکومت یا سیاسی جماعت کو عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں ۔ یہ سب اپنے بقا اور تحفظ کی جدوجہد میں ہیں ۔

اے وحید مراد

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے