ٓآسیہ مسیح کہاں ہے؟

سپریم کورٹ سے بری کی جانے والے آسیہ مسیح کی وجہ سے پورے پاکستان میں تین دن کاروبار حیات درھم برہم ہو کر رہ گیا لیکن عدالتی فیصلے کے بعد خود آسیہ مسیح پر کیا گزری اور وہ کہاں ہے؟ اس بارے میں سرکاری ترجمان خاموش ہیں اس لئے سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے ۔

آسیہ مسیح کے خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہونے کی خبر کئی افراد نے ٹوئٹر پر دی مگر بعد ازاں اس کی تردید کی یا پھر ڈیلیٹ کرنا پڑی ۔ سب سے پہلے جاوید سومرو نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ سلمان تاثیر کے بیٹے نے امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ آسیہ خاندان کے ساتھ کینیڈا پہنچ گئی ہے ۔

اس کے کچھ دیر بعد شان تاثیر نے لکھا کہ انہوں نے یہ بات اس تناظر میں نہیں کی تھی اور آسیہ مسیح پاکستان میں ہی ہے ۔ اسی طرح کی خبر بی بی سی اردو کے سربراہ شفیع نقی جامعی نے بھی ٹویٹ کی مگر کچھ دیر بعد ہی اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے معذرت کی ۔

دیگر کئی صارفین نے بھی اسی طرح کی ٹویٹس کیں جن میں گل بخاری بھی شامل ہیں ۔ ان میں سے کچھ صارفین نے بعد ازاں اپنی ٹویٹس کو درست کیا، کچھ نے وضاحت کی اور بعض نے اسی طرح چھوڑ دیا ۔ تاہم تاحال حکومت کی جانب سے آسیہ بی بی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ کیا ان کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے یا ابھی تک سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وہیں رکھا گیا ہے ۔

تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے بعد حکومت کی پوزیشن بہت کمزور ہے اور نظرثانی اپیل کی سماعت اور فیصلے تک اس بارے میں شاید ہی کچھ سامنے آ سکے کہ سپریم کورٹ سے بری کی جانے والی آسیہ بی بی کو رہائی ملی ہے یا نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے