فیض آباد معاہدہ

نوائے وقت کے ادارتی ڈیسک کا شکریہ۔ گزشتہ جمعہ کی صبح چھپنے والے ”برملا“ کو بڑی مہارت سے انہوں نے ”خدا کرے عمران ریاستی رٹ کے اطلاق پر قائم رہیں“ کا عنوان دیا۔

میری جانب سے کسی نازک موضوع پر لکھا یہ ایک مختصر ترین کالم تھا جو 800سے کم الفاظ پر مشتمل تھا۔ میری احتیاط اور ڈیسک والوں کی مہارت مگر کسی کام نہ آئی۔ وفاقی اور پنجاب حکومت نے مشتعل ہوئے افراد کو رام کرنے کے لئے ایک دستاویز پر دستخط کر دئیے۔ ہماری ریاست جسے وزیر اطلاعات ”عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت“ بتاتے رہے، اس دستاویز کے ذریعے دُنیا کو ایک بار پھر یہ حقیقت دکھانے پر مجبور ہوگئی کہ ہمارے دین مبین کی من مانی تشریح کی بنیاد پر اُکسائی شورش پر قابو پانے کی صلاحیت اس کو میسر نہیں۔

اپنی صلاحیت اگرچہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے ازخود بے نقاب کی لیکن میرے باقاعدہ قارئین کی ایک خاطر خواہ تعداد سوشل میڈیا پرلگائے پیغامات کے ذریعے میری سادگی کا مذاق اُڑاتی رہی۔ چند لوگوں کو یہ شک بھی ہوا کہ شاید عمران خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ نے مجھے رزق کمانے کی مجبوری یاد دلادی ہے۔ میں اپنے”بکری“ ہو جانے کی حقیقت خوش گمانی کے غلاف بنتے ہوئے چھپا رہاہوں۔

خوش گمانی میں مبتلا تو میں گزشتہ دور حکومت کے آخری ایام میں بھی تھا۔ بار ہا اس کالم کے ذریعے یاد دلاتا رہا کہ سابقہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے باہم مل کر انتخابی قوانین میں آسانی فراہم کرنے کے نام پر جو ترمیم کی ہے اس میں عقیدئہ ختم نبوت سے ”انحراف“ کی گنجائش موجود نہیں۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھ کر تحریک انصاف کے فکری گرو ہوئے صاحب نے مبینہ ”انحراف“ دریافت کیا تھا۔ ”انحراف“ اگر سرزد ہوا تب بھی اس کی ذمہ داری فقط گزشتہ حکومت کے سرتھونپی نہیں جاسکتی تھی۔ تحریک انصاف کے نمائندگان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین بھی اس کی تیاری اور منظوری کے عمل میں برابر کے ”گنہگار“ تھے۔

”انحراف“ کی دریافت کے بعد راولپنڈی کے بقراطِ عصر تو خاموشی سے کونے میں دب کر بیٹھ گئے۔ لاہور کے ایک اجتماع میں لیکن پنجاب کے Hands Onوزیر اعلیٰ شمار ہوتے شہباز شریف صاحب نے جوش خطابت میں اپنے بڑے بھائی کی موجودگی میں کوتاہی سرزد ہوجانے کا اعتراف کیا۔ پرجوش آوازمیں مطالبہ کیا کہ ذمہ دار وزیر کو کابینہ سے نکال باہر کیا جائے گا ۔

یہ کہنے کے بعد وہ لاہور سے متعلقہ وزیر کا استعفیٰ لینے کو اسلام آباد روانہ ہونے والے مظاہرین کو روکنے کے اخلاقی جواز سے محروم ہوگئے۔ یہ قافلہ جب راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے فیض آباد چوک پر 22دنوں تک دھرنے دئیے بیٹھارہا تو اس سے نبٹنے کی ذمہ داری شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے سرپر نازل ہوگئی۔ ان کے وزیر داخلہ کی کمان پولیس کو مو¿ثر انداز میں متحرک نہ کرپائی۔بالآخر وفاقی حکومت کو ایک دستاویز پر دستخط کرنا پڑے جسے اسے کالم میں ”دستاویز شکست“ پکارنے کی جسارت کی تھی۔ ہماری ریاست کے ایک دائمی ادارے کے نمائندے کے دستخط بھی اس دستاویز پر بطور ثالث موجود تھے۔

مذکورہ ہنگامہ ختم ہوجانے کے بعد سابق وزیر اعظم نے اسلام آباد کے چند صحافیوں کو ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کے لئے اپنے دفتر بلایا تھا۔ پہلی اور آخری بار میں بھی وہاں بلالیا گیا تھا۔ تقریباََ 90منٹ تک پھیلی اس گفتگو میں تمام تر سوالات فیض آباد دھرنے کے بارے میں اٹھائے جاتے رہے۔ سیاستدانوں سے مختص چالاکی سے کام لیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی اشاروں کنایوں میں اصرار کرتے رہے کہ انہیں تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت میسر نہ تھی۔ اس کی عدم موجودگی نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا۔ ان دنوں کے سیاسی ماحول میں وزیر اعظم کے دعوے پر اعتبار کیا جاسکتا تھا۔

وزیر عظم عمران خان مگر ایک قطعاََ مختلف صورتحال میں اپنے منصب پر فائز ہیں۔ چین کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل انہوں نے ”ریاستی رٹ“ کو بحال کرنے کا اعلان کیا تو محض منطق کا سہارا لینے والے غیر متعصب ذہن کے لئے ان کے کہے پر اعتبار کرنا ضروری تھا۔ میں نے بھی گزشتہ جمعے کے روز چھپے کالم میں یہ رویہ اختیار کیا تھا۔

طعن وتشنیع چسکہ فروشی کے بہت کام آتے ہیں۔ یہ کالم نگار مگر اس ملک کا شہری بھی ہے۔ مجھے اپنے خاندان اور پیاروں کے تحفظ کے لئے ریاستی رٹ درکارہے۔ بچوں کو سکول وکالج جانے کے لئے سڑکیں کھلی دیکھنا چاہتا ہوں۔ مریضوں کا ہسپتال پہنچنا بھی ضروری ہے۔ روزمرہّ زندگی کے معمولات ہی رونق لگاتے ہیں۔ جی کو خوش کرتے ہیں۔گھروں میں خوف سے دبک کر موبائل فونوں کی بندش سے دنیا سے مزید کٹ کر جینے میں کوئی لذت نہیں۔

اس سوال پر بہت غور کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست دین مبین کی من مانی تشریع کے نام پر آگ بھڑکانے والوں پر قابو پانے میں ناکام کیوں ہوجاتی ہے۔ میری ناقص رائے میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے جنرل مشرف کے آخری ایام میں لال مسجد سے جڑے ہنگامے کی تفہیم سے آغاز کرنا ہوگا۔ مجھ جیسے کئی لوگ ٹی وی سکرینوں پر سینہ پھلاکر پھیپھڑوں کا زور لگاتے ہوئے اس دور کے حاکم کو ریاستی رٹ کی اہمیت یاد دلارہے تھے۔ بالآخر ”ایکشن“ ہوا تو ٹی وی سکرینوں پر ظلم کی داستانیں بناتے ہوئے سینہ کوبی شروع ہوگئی۔ مشرف حکومت چلی گئی تو آصف علی زرداری کی حکومت کے آخری دنوں میں ”سیاست نہیں ریاست بچانے“ کے نام پر کینیڈا سے آئے ”شیخ السلام“ نے بھی ایک دھرنا رچایا۔ نواز حکومت آئی تو اس کے قیام کے محض ایک سال بعد تحریک انصاف نے موصوف کو اپنا ”کزن“ بناکر 126دنوں تک پھیلا دھرنا دیا۔ اس دھرنے کے آغاز ہی میں ”سانحہ ماڈل ٹاﺅن“ ہوگیا تھا جس کے ذمہ دار پولیس ا فسران آج بھی نوکریوں سے معطل ہوئے عدالتوں کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ عدالتی کارروائی سے بچے چھوٹی سطح کے افسران ان دنوں بزدار حکومت کی زد میں ہیں۔

میں انتہائی دیانت داری سے یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ وطنِ عزیز میں معاملہ اِس یا اُس حکومت کا نہیں رہا۔ امن وامان کو یقینی بنانے کے لئے جو ڈھانچہ ہم نے سرکارِ انگلشیہ سے ورثے میں حاصل کیا ہے وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق Mob Controlکے قابل نہیں۔”سانحہ ماڈل ٹاﺅن“کی وجہ سے اپنے سرآئی بلا سے جان بچاتے پولیس افسران واہل کار پیش قدمی سے اجتناب کو مجبور ہوچکے ہیں۔

امن وامان کو یقینی بنانا بنیادی طورپر بروقت Preventiveاقدامات کا متقاضی ہوا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم آنے سے پہلے ہی ”دوسری“ جانب سے تیاری شروع ہوچکی تھی۔ 24/7چینلوں کو ”قابو“ میں لانے کے بعد ان ”تیاریوں“ کو ویسے ہی نظرانداز کرنے کی کوشش ہوئی جیسے بلی کو اپنے دائیں بائیں دیکھ کر کبوتر اپنی آنکھ بند کرلیتا ہے۔”خبر“ دینے کے ہنر سے محروم کئے24/7چینلوں کی خاموشی نے جو خلاءپیدا کیا اسے Whatsappکے ذریعے پھیلے پیغامات نے پرکیا۔24/7چینل سپریم کورٹ کا فیصلہ مختصر اور محتاط الفاظ میں اپنے نیوزبلیٹنوں میں بتاکر دیگر ”اہم موضوعات“ پر یاوہ گوئی میں مصروف ہوگئے۔نام نہاد نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز Segmentsمیں بھی Safe-Safeکھیلا گیا۔ خبر جاننے والوں نے اپنی Relevanceاور اعتبار کھودئیے تو سوشل میڈیا کے Citizen Journalistذہن سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں مشغول ہوگئے۔ حکومت حواس باختہ ہوگئی۔ ایک بار پھر ریاستی رٹ کوبھول جانا پڑا۔

معاملات کو سنوارنا ہے تو حکومت سے قبل ڈیگلریشن کی بدولت چلائے اخبارات اور پیمراکے دئیے لائسنسوں کی بنا پررونق لگاتے ٹی وی چینلوں کا اعتبار بحال کرنا ہوگا۔ حساس ترین موضوعات پر مدلل مباحث صرف ان ذرائع ابلاغ ہی کے ذریعے ممکن ہیں۔ وہ اعتبارکھودیں تو افواہ سازی ہوتی ہے جسے فروغ دینے کو سوشل میڈیا ہے جس نے امریکہ اور یورپ میں بھی ”خانہ جنگی“ دِکھتی ابتری پیدا کررکھی ہے۔Digitalعہد کی حقیقتوں کو سمجھے بغیر ریاستی رٹ بحال کی ہی نہیں جاسکتی۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے