نوازشریف سزا معطلی پر چیف جسٹس برہم

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم کو ضمانت دیتے ہوئے ہائیکورٹ نے عدالتی نظیروں کو خاطر میں نہیں رکھا، سزا معطلی کے فیصلے کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اثاثے کیسے بنائے، اوپر سے من و سلوی تو نہیں اترا؟

تین رکنی خصوصی بنچ کے سامنے نیب پراسیکوٹر اکرم قریشی نے دلائل میں کہا کہ نیب قانون کے تحت ہارڈشپ کیسز میں سزا معطل ہوسکتی ہے، ملزم اگر سخت بیمار ہو یا اس کی جان کو خطرہ ہو تب سزا معطل ہوسکتی ہے، ہائیکورٹ میں کیس کے میرٹ پر بات نہیں کی جا سکتی تھی ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ان باتوں کو مدنظر نہیں رکھا ۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کو آرام کرلینا چاہیے تھا مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی جاتی، کامیاب اینجوپلاسٹی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق خواجہ حارث نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کسی اور دن کے لئے مقرر کردی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عدالتی نظام میں بہتری کا معاملہ ہے، جنرل ر کیانی نے مجھے عدالت جانے کی اجازت نہیں دی، اہم مقدمہ ہے اس لئے آیا ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے فیصلے سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، ہم نے کہا ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا ضمانت دینے کا فیصلہ ایسے ہوتا ہے؟ ہائیکورٹ کے فیصلے کی آخری سطر دیکھیں، ہائیکورٹ نے مقدمے کے تمام حقائق پر بات کی ۔

چیف جسٹس نے نواز شریف کے وکیل سے کہا کہ ہائیکورٹ نے کس طرح کے الفاظ استعمال کیے ذرا دیکھیں، کیا ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست پر حتمی فیصلہ دے دیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال میں ہمارے پاس ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان کی عدالتوں کی کوئی ایسی مثال دے سکتے ہیں جس میں ضمانت کی درخواست پر نیب کورٹ فیصلے کے نقائص بیان کیے گئے ہوں، ہائیکورٹ نے کہا ایسا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ تھا، ضمانت کے مقدمے میں بظاہر تمام ابزرویشنز عارضی ہوتی ہیں، ہائی کورٹ نے فیصلے میں سخت ترین الفاظ استعمال کئے ۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ اثاثے درست طریقے سے بنائے گئے یا نہیں، یہ مقدمہ مکمل تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جائز ذرائع سے اثاثے بنانے کو ثابت کرنے کی زمہ داری آپ پر ہے ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اثاثے نواز شریف کے بڑے بیٹے کی ملکیت ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اوپر سے من و سلویٰ اترا تھا۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا اثاثے درختوں پر اگ آئے تھے جو اتارے گئے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اثاثے ہوا میں تو نہیں آئے ہونگے، پاناما اسکینڈل کو ٹرائل کورٹ میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو خود دستاویزات کا جائزہ لیکر فیصلہ کرنا چاہیے تھا، پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ کو ٹرائل کرنے کا حق نہیں، سپریم کورٹ نے مقدمہ ٹرائل کورٹ بھیج کر مہربانی کی، چیف جسٹس نے کہا کہ چار مرتبہ موقف تبدیل کیا گیا، پہلے قطری کی بات کی گئی اور کبھی اور دوسرا موقف اختیار کیا گیا ۔

ایک موقع پر چیف جسٹس خواجہ حارث کے ساتھ تلخ ہو گئے اور کہا کہ یہ ٹرائل کورٹ یا ہائیکورٹ نہیں جسے آپ دبا لیں گے، پہلے میرے سوال کا جواب دیں ۔

یہ ہدایت کرتے ہوئے کہ فریقین کے وکلاء اپنے تحریری معروضات عدالت میں پیش کریں، عدالت نے کیس کی سماعت بارہ نومبر تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے