عدالتیں بھنگ کا مقدمہ سننے کو تیار نہیں؟

ضلع میرپور خاص کے ایک وکیل نے سندھ ہائیکورٹ میں بھنگ کے کاروبار کو قانونی قرار دینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے مگر آٹھ ماہ سے اس کی سماعت مکمل نہیں ہوئی ۔ امان اللہ سومرو نامی اس وکیل نے پہلے یہ درخواست ملک کی سب سے بڑی عدالت میں دائر کی تھی جس نے کہا تھا کہ یہ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے ۔

وکیل امان اللہ سومرو نے اب اس کاروبار کی اجازت کیلئے احتجاج شروع کر دیا ہے ۔ بی بی سی اردو کے مطابق انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں ’بھنگ‘ کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ ایڈووکیٹ امان اللہ سومرو نے میرپور خاص پریس کلب کے باہر ڈنڈے اور کونڈے کے ساتھ بھنگ گھوٹ کر تیار کی اور سبز رنا کے محلول والا ایک گلاس پی گئے ۔

بی بی سی کے مطابق امان اللہ سومرو شہر میں سٹامپ وینڈر کا کام کرتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ بھنگ منشیات نہیں بلکہ جڑی بوٹی ہے، اس میں کوئی بھی کیمیکل نہیں اور نہ ہی نقصان دہ ہے۔ ’پہلے یہ چالیس روپے کلو ملتی تھی لیکن اب یہ 12 سو روپے کلو بھی نہیں ملتی ۔‘

سندھ میں 1976 تک بھنگ کی فروخت اور استعمال کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی فروخت بھی شراب کی دکانوں پر شراب اور افیون کے ساتھ کی جاتی تھی، بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے شراب کے ساتھ بھنگ پر بھی پابندی عائد کر دی ۔

اس سے قبل ایک بین الاقوامی کنونشن کے تحت 1961 میں پہلی بار کینیبس یا بھنگ کو منشیات کے زمرے میں شامل کردیا گیا۔ تاہم پڑوسی ملک بھارت کی بعض ریاستوں میں آج بھی بھنگ کا کاروبار قانونی ہے جبکہ امریکہ، جرمنی، اٹلی اور نیدرلینڈ نے اس کو بطور دوا استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے