مقالہ، فیصلہ یا منصوبہ؟

مطیع اللہ جان

بندہ پڑھا لکھا ہو، انگریزی زبان پر عبور ہو اور قانون جانتا ہو مگر ساتھ میں بد دیانت ہو، بزدل ہو، عیار ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بااختیارعہدیدار ہو تو وہ نہ صرف ملک اور قوم کو تباہ کرتاھے بلکہ اس کی “مضبوط” دلیل دے کر داد کا طلبگار بھی ہوتا ھے- اسی لئے کبھی کبھی بڑا مجرم، بڑے عہدے، بڑی گاڑی، بڑی داڑھی (سنت کے بھی برخلاف)، بڑا چندہ دے کر، بڑا وکیل کر کے اور کسی “بڑے صحافی” کی حمایت سے کسی “بڑی عدالت” سے انصاف لے کر چلتا بنتا ہے- اس وقت ایسے ہی چند “با صلاحیت” لوگوں سے پاکستان کا پالا پڑا ہوا ہے جنھوں نے بظاہر تن تنہا اپنے اداروں اور نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے- ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اپنی تعلیم، انگریزی، قانون، اختیار اور فیصلوں کے سہارے یہ لوگ نہ صرف ریاست کے خلاف جرائم کر رہے ہیں بلکہ ان تمام جرائم کا جائے وقوعہ دھو کر ایک نیا جائے وقوعہ ترتیب دے رہے ہیں ۔ ایک نیا جائے وقوعہ جس میں قاتل مظلوم اور مقتول ظالم ثابت ہو جائے- نجانے یہ کس قماش کے بے تیغ مومن سپاہی ہیں جنھوں نے اٹھائی گئی قسموں کے برخلاف اپنا قلم بنا لڑائی خود سے کم علم ایک سپہ سالار کے بوٹ پر دھر دیا ھے- قلم کا ہتھیار نہ ڈالتے تو ضمیر کی قید سے رہائی کیسے پاتے ۔ الیکشن سے پہلے شروع کی گئی سیاست، جمہوریت، انصاف اور صحافت کی عدالتی نسل کشی سے خون آلود جائے وقوعہ پر اب صحافت کی سیاہی انڈھیلی جا رہی ھے – انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کی سر پھٹی لاشوں کے سرہانے سے منصف کا خون آلود ہتھوڑا غائب کر کے صحافی کا روشنائی سے خالی قلم رکھا جا رہا ھے ۔

شواہد اور تاریخ کے ساتھ ساتھ صحافت کا چہرہ مسخ کرنے واسطے ایک اور عدالتی فیصلہ میدان میں آ گیا ھے- ٹی وی اینکر ارشد شریف پر توہین عدالت کا الزام تھا جس کے مطابق اس نے پروگرام میں سابق صدر آصف علی زرداری کا ایک حلفیہ بیان دکھایا جو سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا تھا – زرداری صاحب نے اس بیان میں اس تاریخ پر اپنی بیرون ملک کوئی جائیداد نہ ہونے کا حلف دیا تھا- اس کے بعد اسی پروگرام میں اینکر نے حالیہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے آصف زرداری کے ایک پرانی تاریخ کے حلفیہ بیان کو اسکرین پر دکھا دیا جس کے مطابق زرداری صاحب کی بیرون ملک ایک جائیداد تھی- توہین عدالت کا نوٹس بظاہر اس لیئے جاری ہوا کہ اینکر نے ایک زیر سماعت مقدمے میں عوام، متعلقہ ججوں اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جو آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی بھی “سنگین” خلاف ورزی تھی- عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کی شق ۱۰- اے “میڈیا ٹرائل” کے برخلاف منصفانہ ٹرائل اور شق چار تمام شہریوں (بشمول ملزمان) پر قانون کے مساویانہ نفاذ اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں – فیصلے کا نچوڑ یہ تھا کہ میڈیا اپنی خبروں میں اور اینکر حضرات عدالتی کارروائی پر بحث کے دوران اپنی عدالت لگا کر خود ہی ملزم کو مجرم ثابت کرتے ہیں اور ایسا کر کے وہ توہین عدالت کے مرتکب ہوتے ہیں- عام سیاستدان تو ایسا الزام سارے میڈیا پر لگا سکتا ہے مگر ایک جج نے اپنے سامنے مقدمے کے حقائق پر فیصلہ دینا ہوتا عوامی تاثرات پر نہیں ۔

یہ اور بات ہے کہ مذکورہ اصول و ضوابط سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا – افسوس اس بات کا ہے کہ عدالت نے قانون اور اپنے حقوق سے نابلد یا بہت ہی ‘شریف’ ایک اینکر کی غیر مشروط معافی کو بنیاد بنا کر اس کے مبینہ جرم کے حقائق کے تعین، ضروری فریقین کی قانونی بحث اور اسکے حوالے دئیے بغیر کسی عدالتی معاون کے تحقیقی مقالے کو عدالتی فیصلے کی شکل میں جاری کر دیا ھے- آئین کی شق ۱۹ میں درج بولنے کی آزادی جیسے اہم ترین بنیادی حق، اس شق ہی کی کچھ شرائط اور توہین عدالت سے متعلق آئینی شق دو سو چار کا موازنہ و مقابلہ کرتے وقت اٹارنی جنرل اور بڑے قانونی ماہرین نے کیا کیا دلائل دئیے فیصلے میں اس کا کہیں ذکر نہیں- اس عدالتی فیصلے نما بین الاقوامی مقالے میں میڈیا کی عدالتی کاروائیوں پر بحث کی حدود سے متعلق بین القوامی عدالتوں کے جو قدیم حوالے دئیے گئے ان میں ان کیسوں کے منفرد حقائق و الزامات کے ثابت کرنے کے بنیادی عمل کو نظر انداز کیا گیا – یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ امریکہ اور یورپ میں اعلی ترین عدالت کرپشن مقدمات کا براہ راست سو موٹو نوٹس نہیں لیتی اور نہ ہی از خود نوٹسوں اور ججوں کے نفرت انگیز ریمارکس کے ذریعے اپنے سیاستدانوں کا میڈیا ٹرائل کرتی ہے- یہ وہ مہذب ممالک ہیں جہاں جج واٹس ایپ کالوں اور میسیجز پر پہلے مخالف سیاستدانوں کو عدالتی فیصلوں اور ریمارکس میں گاڈ فادر اور سیسیلین مافیا قرار دے کر ذلیل نہیں کرتے- ویسے بھی ایک طرف دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ ٹرائل نہیں اور دوسری طرف منصفانہ ٹرائل کا نعرہ مار کر اینکروں کو اس کھلی عدالت کی کاروائی میں پیش کردہ دستاویزات پر بات سے روکا جا رہا ہے- سو موٹو کے نام پر منصفانہ ٹرائل کا بیڑہ غرق تو خود معزز عدالت نے کر رکھا ہے اور پاناما کیس اس کی “عمدہ” مثال ہے- منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق اور توہین عدالت کے قوانین کا جو خون کمرہ عدالت نمبر ایک میں بہتا رہا ہے ارشد شریف کے خلاف فیصلے میں اسکا سارا الزام میڈیا اور تمام اینکروں پر ڈالنے کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی – اب ایسے مقالے نما دھمکی آمیز فیصلوں سے تاریخ اور حقائق مسخ نہیں کیئے جا سکتے ۔

خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عدالت کا فیصلہ کم اور فتوی زیادہ لگتا ھے ۔ یہ ویسا ہی ھے کہ آپ توہین رسالت پر سزا کے حوالے سے کسی عالم سے موت کی سزا کا عمومی فتوی لے کر اپنے کسی مخالف پر الزام لگا کر قرآن اور احادیث کا ورد کرتے ہوئے اس کا قتل کر دیں یا اسے واجب القتل قرار دے دیں- اس فیصلے میں بھی آئین اور قانون کا بےتحاشہ ورد کیا گیا ھے اور انتہائی سخت الفاظ میں پیمرا کو پہلے سے موجود قوانین پر عمل کرنے کا طویل حکمنامہ جاری کیا گیا ھے- اس تینتیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں ارشد شریف کا جرم تکنیکی اور قانونی اعتبار سے تو ثابت نہیں ہوا مگر پورا میڈیا سزاوار ضرور ٹھہرا دیا گیا ہے۔ حکم ہوا ہے کہ میڈیا کے ادارے تجربہ کار وکیلوں کو اندرونی میڈیا مانیٹرنگ کمیٹیوں میں شامل کریں تاکہ خبروں اور تبصروں کو ضابطہ اخلاق اور قانون کے مطابق بنایا جا سکے- وکیلوں کو نوکریاں دینے کا یہ انتہائی غیر آئینی اور قابل مذمت طریقہ ھے ۔ میڈیا کے ادارے پہلے ہی ضرورت اور وسائل کے مطابق قانونی مشاورت لیتے رہتے ہیں- اگر یہی اصول ہے تو پھر صحافت سے نابلد معزز ججوں کے بنچ پر ایک آدھ صحافی بھی ہونا چاہئیے ۔

اپنے تازہ ترین تفصیلی فیصلے میں عدالت عظمی نے خود کو ارشد شریف کے نام نہاد جرم تک محدود رکھنے اور اس کے مخصوص حقائق کو قانونی زبان میں ثابت کرنے کی بجائے پورے پاکستانی میڈیا کو کٹہرے میں لانے کی غیر ضروری اور ناکام کوشش کی ہے- ایسا کرنے کے مقاصد اب ڈھکے چھپے نہیں – لگتا ہے ایک مخصوص وکیل نے سکرپٹ کے مطابق ایک کمزور اینکر سے اعتراف جرم کروا کر پورے ملک کے میڈیا سے متعلق کسی خفیہ منصوبے کو آگے بڑھایا ہے – ارشد شریف کے وکیل ایڈوکیٹ فیصل فرید چودھری حکومت کی اس کمیٹی کے فعال رکن ہیں جو صحافت کی تنابیں کسنے کے لیئے ایک نام نہاد مشترکہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون پر کام کر رہی ہے – یہ مجوزہ فورم تاریخ میں پہلی بار اخبارات کو بھی کنٹرول کرے گا – سوشل میڈیا پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق ایڈوکیٹ فیصل چودھری کے بھائی اور وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری پہلے ہی بیان دے چکے ہیں – ایسے میں بس ایک اینکر چاہئیے تھا جو آسانی سے قابو آ سکتا – یہ سب کچھ کسی خاص منصوبے کے تحت ہو رہا ہے جس کے بعد پاکستان میں میڈیا، صحافت اور صحافیوں کا مستقبل شدید خطرے میں لگتا ہے ۔

لوگوں کو جگانے والے میڈیا کو اب خود بھی جاگنا ہو گا – یہ وقت ہے کہ عوام بھی اپنی آنکھ، کان اور زبان بننے والے میڈیا کا ساتھ دیں اور ایسی سازش کو ناکام بنائیں – وگرنہ پھر تازہ ترین عدالتی “مقافیصلے” ( مقالے اور فیصلے کا مجموعہ) میں پاکستان کے میڈیا کی پہلے ہی گرائی گئی لاش کی جتنی بے حرمتی ہو چکی ھے اسکے بعد اس سے کیا فرق پڑے گا کہ لاش کو دفنا دیا جائے یا جلا دیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے