جاسوس برطانوی طالبعلم کو معافی

متحدہ عرب امارات نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار برطانوی طالب علم کی عمر قید کی سزا معاف کر کے رہا کر دیا ہے ۔ 31 سالہ میتھیو ہیڈجز کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے لیے رحم کی اپیل کی تھی ۔

گرفتار طالب علم نے جاسوسی کے الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی کے کیے تحقیق کر رہے تھے ۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے قومی دن کے موقع پر جاری کیے جانے والے کئی احکامات میں معافی کا یہ حکم بھی جاری کیا تاہم ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیڈجز ‘سو فیصد ایک خفیہ اہلکار ہیں’۔

ایک پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں مسٹر ہیڈجز کو یہ ’قبول‘ کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایم آئی سِکس کے اہلکار ہیں ۔

بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے میتھیو کی اہلیہ ڈینیئلا ٹیجیڈا نے کہا کہ گذشتہ سات ماہ ڈراونے خواب کی طرح تھے اور میں اپنے شوہر کی گھر واپسی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں ۔

ابوظہبی کی ایک عدالت میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیڈجز نے الزامات قبول کیے ہیں جن کے مطابق وہ ‘برطانوی حکومت کے لیے جاسوسی’ کر رہے تھے اور اس الزام میں انھیں گذشتہ ہفتے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے ‘کبھی کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے کہ وہ جاسوسی کے الزام کو درست کہہ سکیں’۔

میتھیو ہیڈجز کو مئی میں دبئئ سے گرفتار کیا گیا تھا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button