حتمی دلائل پہلے کون دے گا؟ فیصلہ محفوظ

نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس میں فریقین میں سے پہلے حتمی دلائل کون دے گا،،ل احتساب عدالت محفوظ فیصلہ کل سنائے گی، فلیگ شپ ریفرنس میں تفتیشی پر جرح آج بھی مکمل نہ ہوسکی، سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ۔

نواز شریف کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس فائنل مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ۔ العزیزیہ ریفرنس 342 کا بیان مکمل ہونے کے بعد فریقین کے حتمی دلائل کا سلسلہ کل شروع ہوگا، پراسکیوشن یا وکیل صفائی، پہلے دلائل کون دے گا، محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا ۔
آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو نیب پراسکیوٹر نے دلائل دئیے کہ نواز شریف نے اپنے دفاع میں کچھ دستاویزات پیش کی ہیں، اس لیے قانون کے مطابق اب وکیل صفائی پہلے حتمی دلائل کا آغاز کریں ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے دستاویزات اپنے دفاع میں پیش نہیں کیں، دستاویزات پر اس عدالت یا ہائی کورٹ میں دلائل نہیں دیں گے، دفاع زبانی یا گواہ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے ۔

نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ دستاویزات کا مقصد واضح ہونا چاہیے، کہ کہہ دیں کہ یہ دفاع نہیں تو پھر ٹھیک ہے، جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ حارث تین بار کہہ چکے ہیں کہ یہ دستاویزات دفاع نہیں،عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل موخر کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا جواب کل سنایا جائے گا ۔

فلیگ شپ ریفرنس میں تفتیشی افسر محمد کامران پر جرح آج بھی مکمل نہ ہوئی،فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق خواجہ حارث نے پوچھا کہ آپ کے پاس جو دستاویزات تھے وہ لینڈ رجسٹری میں نہیں تھے، جج ارشد ملک نے بھیجی استفسار کیا کہ تاریخی دستاویزات اس میں موجود تھے یا نہیں، تفتیشی نے کہا کہ کاغذات تو موجود تھے لیکن تازہ نہیں تھے،
لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کو آخری ہیسٹوریکل ایڈیشن کے لیے درخواست دی،درخواست کے جواب میں ہیسٹوریکل کاپی مجھے ملی،لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ نے انفارمیشن کی بنیاد پر جواب دیا
جج ارشد ملک نے وکیل صفائی سے کہا کہ آپ کے سوال کا جواب مل گیا اب اگلا سوال پوچھیں،خواجہ حارث بولے کہ میں بے وقوف ہوں ساری دنیا کو سمجھ آتی ہے مجھے نہیں ، سوال کا جواب دیں یا نہ دیں رضاکار بہت آتے ہیں،سوال یہ ہے کہ اکستیس اکتوبر 2007 کی تاریخ کے بارے میں کیا معلومات تھیں،
تفتیشی نے بتایا کہ میں نے لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کو بتایا کہ حسن نواز کی پراپرٹی کی معلومات چاہیے، لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ نے مجھے بتایا کہ اگر آپ 31 اکتوبر 2007 کی تاریخ کو منشن کریں گے تو ہم آپ کو معلومات فراہم کریں گے،

خواجہ حارث نے پوچھا کہ آپ نے لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ سے پراپرٹی کے حوالے سے کیا پوچھا،  گواہ نے بتایا کہ میں نے لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ سے موجودہ ملکیت کے بارے میں پوچھا تھا،
مجھے ہیسٹوریکل کاپی جب ملی تو اس پر اکتیس اکتوبر کی تاریخ لکھی تھی،درخواست کے مطابق یہ پراپرٹی فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے منسلک تھی، ان میں سے ایک کمپنی حسن نواز کی تھی ۔

فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت بھی کل تک ملتوی کردی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے