سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

جعفر حسین
آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔

اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، "پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔” یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا تھاکہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ فضا میں خوشبو سی پھیلنے لگی۔ بابا جی کا قد بلند ہوتا ہوا نسرین کے گھر کے کوٹھے تک جا پہنچا۔ میں فرطِ عقیدت سے بابا جی کے پیروں میں جا گرا۔ میں نے کہا، میری بس دو خواہشیں ہیں۔ ایک تو شاہزیب خانزادے کو پھینٹی لگانی ہے دوسری پوری دنیا وزٹ کرنی ہے۔ بابا جی نے مجھے اپنے قدموں سے اٹھایا اور ٹانگوں سے لپٹا کے بولے، "جا بچّہ۔۔۔ دونوں خواہشیں پوری”۔

یہ میٹا فزکس ہے۔ یہ روحانیت ہے۔ یہ پیرالل یونیورس ہے جسے بد عقیدہ لوگ نہیں مانتے۔ آپ مجھے دیکھ لیں۔ میری دونوں خواہشیں پوری ہوئیں۔ میں نے خانزادے کو چپیڑیں بھی کرائیں، میں نے دنیا بھی گھومی۔ دنیا میں ہر جگہ جہاں میں گیا وہاں مجھےکوئی نہ کوئی پاکستانی بابا جی ضرور ملے۔ ان بابوں نے مجھے بہت سی آکورڈ سچویئشنز اور پوزیشنز سے نکالا۔ پچھلی گرمیوں میں یورپ کا ٹُور لیٹ ہورہا تھا۔ پِت میری کمر سے ہوتی ہوئی گردن تک پہنچ گئی تھی۔ میں نے اپنے پروڈیوسر سے کہا کہ اب میں اور کام نہیں کرسکتا۔ یہ کہہ کر میں نے پاسپورٹ نکالا اور ائیرپورٹ جا پہنچا۔ پہلی فلائٹ لندن کی تھی۔ میں نے سوچے بغیر ٹکٹ لیا اور لندن پہنچ گیا۔ لندن کا موسم بہت ٹھنڈا، حسین اور لَسٹ آمیز تھا۔ شام کا کھانا ملک تاجور نذیر نے کھلایا۔ یہ میرے فین ہیں۔ یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں میں جاتا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیف کباب، نہاری، پاستا، پاوے، کھدیں، نان، پیزا اور وڈّی بوتل گورمے کی پلائی۔ کھانا کھا کے باہر نکلے تو حسین صورتیں دیکھ کر دل میں ہلچل مچنی شروع ہوگئی۔ ملک صاحب سے ایک دو دفعہ اسی للک میں بغلگیر ہوا تو وہ بے چارے ڈر کے رخصت ہوگئے۔

پیکاڈلی سرکس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک حسینۂ نازنین میری طرف دیکھ کر مسکرائی تو میں فورا جا کر اس سے بغلگیر ہوگیا۔ ابھی جپھی سنبھلی بھی نہیں تھی کہ چٹاخ سے دائیں کان پر کسی نے لپّڑ دے مارا۔ طیش کے عالم میں گھوم کے دیکھا تو ایک صورت حرام گورا جو کم از کم ڈیڑھ سو کلو کاہوگا، موجود تھا۔ کہنے لگا کہ یہ حسینہ موسوم بہ کیتھی میری لُگائی ہے اور میری طرف دیکھ کر مسکرائی تھی، تو اس سے پپّیاں جپھّیاں کس چکر میں کر رہا ہے؟۔ میں سنبھلا اور بھاگ کر دس قدم دور چلا گیا اور کہا، دیکھیں پیٹر۔۔۔ میں اَنسان ہوں۔ اَنسان سے غلطی ہوجاتی ہے۔ اس کو معاف کر دینا چاہیئے۔ گورا گھورتے ہوئے میری طرف بڑھا آرہا تھا کہ اچانک غیبی امدا د آئی۔ یہ معنّک کوجک نما انسان تھے ۔ انہوں نے پیٹر کو انوکی لاک لگایا۔ پیٹر منہ کے بل زمین بوس ہو گیا۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور پاس کھڑی لیمبرگینی میں گھس گئے۔

کارمیں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد حواس بجا ہوئے تو میں نے ان سے کہا، اے رحم دل ٹَکلے، میں کس زبان سے تمہارا شکریہ ادا کروں۔ آج تم نے جیسے میری جان بچائی ہے مجھے سالوں پہلے گگّو منڈی کا واقعہ یاد آگیا جہاں ایک بابا جی نے میری سہائتا فرمائی تھی۔ رحم دل انسان نے عینک اتاری۔ پینٹ میں اڑسی ہوئی شرٹ باہر نکال کر اس کے دامن سے عینک کے شیشے صاف کئے۔ میرے مفلر سے اپنے سر کو صاف کیا۔ عینک کو آنکھوں پر جمایا اور بولا، "میرا نام سنیل حسرت ہے۔ میں گگّو منڈی والے اولڈ مین کا گرینڈ سَن ہوں۔ میرے فادر نے مجھے بتایا تھاکہ تمہارے گرینڈ پا بہت عظیم بم کیچر تھے۔ کفّار کے ساتھ اجناگ میں نے انہوں نے سبز چولا پہن کربہت سے ابوام کیچ کئے۔ آخری عمر میں عشّاق کو پھینٹی سے بچانے کے مشن میں منہمک ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے گرینڈ سَن کو بتانا کہ ایک رات لندن کی پیکاڈلی سرکس میں ایک پاکستانی حسین نوجوان کو پیٹر گورے سے بچانا ہے۔ یہ نوجوان آگے چل کر کچھ بھی نہیں بنے لگا لیکن مجھے اس میں اپنی آخرت نظر آتی ہے۔ یہ کہہ کر سنیل حسرت کی آنکھیں بھرآئیں اور ناک چَونے لگی۔یہ اپنی قیمتی قمیص کے دامن سے دونوں اشیاء صاف کرنے لگے۔ ان میں کوئی امیروں والی بَو نہیں تھی۔ انہوں نے جیکٹ کی جیب سے ادھ کھایا برگر نکالا اور کھانے لگے۔

لیمبرگینی اتنی دیر میں ایک قلعہ نما عمارت کے دیو ہیکل دروازے پر پہنچ کے رک گئی تھی۔ ڈرائیور نے دو تین دفعہ ہارن بجایا لیکن گیٹ نہیں کھلا۔ اس پر مسٹر حسرت نے انہماک سے دروازے کی طر ف دیکھا۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ قلعہ کے اندر کی دنیا بھی کسی شاہی محل سے کم نہیں تھی۔ سنیل حسرت نے مجھے سجے سجائے بیڈروم میں پہنچایا اور آرام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کل صبح ملاقات ہوگی۔ جاتے ہوئے انہوں مُڑ کر دیکھا اور آنکھ مارتے ہوئے پوچھا، "کسے ہور چیز دی لوَڑ تے نئیں؟”۔ میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ سنیل حسرت کے جانے کے چند ہی منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک حسینہ ریشم و کمخواب میں لپٹی کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی پگھل کر میری بانہوں میں آگئی۔ کمرے میں چاروں طرف سے ہلکے میوزک کی آواز آنے لگی۔۔۔
"آکے تیری بانہوں میں۔۔۔ ہر شام لگے سندوری”

رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ لشٹم پشٹم اٹھ کر دروازہ کھولا تو سنیل حسرت کرتا پاجامہ پہنے، سر پر کروشیے کی ٹوپی ڈاٹے، ہاتھ میں تسبیح پکڑے کھڑے تھے۔ کہنے لگے جلدی کریں تہجّد کا وقت نکلا جارہا ہے۔قلعہ کے پائیں باغ میں باجماعت نمازِ تہجّد اداکی۔ ان کی برٹش ایکسنٹ میں عربی تلاوت نے سماں باندھ دیا۔ تہجد، فجر اور ذکر اذکار سے فارغ ہونے کے بعد سنیل حسرت نے کہا کہ آپ بھی تھوڑی دیر آرام کرلیں یہ وقت میں اپنی وائف کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس کے بعد بریک فاسٹ کریں گے۔

ناشتے کی میز پر سنیل حسرت نے اپنی زندگی کے کچھ اورپہلودکھائے۔ یہ بہت ہارڈ ورکر تھے۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے اربوں پاؤنڈز کمائے۔ انہوں نے ہر اس چیز کی تجارت کی جس میں انہیں منافع نظر آیا۔ یہ زندگی بارے ایک زبردست نظریہ رکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ حرام، حلال پیسہ کچھ نہیں ہوتا۔ پیسہ یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی فیصلہ کرلیا کہ پیسہ ہوگا۔ لہذا آج ان کے پاس پیسے کی ریل پیل ہے۔ یہ کہنے لگے کہ ان کا دل اپنے گرینڈ فادر کے کنٹری کے لئے دھڑکتا ہے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ پُور پیپل کے لئے کچھ کر جائیں۔ یہ ایسا پروگرام بنا رہے ہیں کہ پاکستان کے ہر غریب آدمی کے پاس اپنا موٹرسائیکل، سمارٹ فون اور ٹی ٹی ہوگا۔ کسی کو ملازمت کی ضرورت نہیں رہے گی اور سب اپنا کام کرکے پیسہ کما سکیں گے۔

یہ میری زندگی کا ان بیلیو ایبل وقت تھا۔ میں نے اپنی لائف میں کبھی ایسا گریٹ اور آنسٹ پرسن نہیں دیکھا۔ عقیدت و احترام سے میری آنکھیں بھر آئیں۔ اچانک ڈائننگ روم ایسی ملکوتی خوشبو سے بھر گیا جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ کمرے کی فضا میں تجلّیاں چمکنے لگیں۔ اس خوابناک ماحول میں سنیل حسرت کی آواز گونجی، "میں ذرا وضو کر آواں، ہوا سَر گئی سِی”۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے