اشتہار میں وزیراعلی کی تصویر کیس

سپریم کورٹ نے وزیراعلی سندھ کی تصویر والے سرکاری اشتہار کی ادائیگی جیب سے کرنے کی یقین دہانی پر مقدمہ نمٹا دیا جبکہ خیبر پختونخوا کی وزارت اطلاعات کو وزیراعلی کی تصاویر والے اشتہارات کی درست معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سرکاری اشتہارات پر حکومتی شخصیات کی تصاویر لگانے کے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب کی حد تک معاملہ نمٹ چکا ہے، سابق وزیراعلی شہباز شریف نے پچپن لاکھ جمع کرا دئیے تھے ۔

سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ صرف ایک اشتہار پر وزیراعلی مراد علی شاہ کی تصویر چھاپی گئی تھی اور اس کی لاگت چودہ لاکھ ہے ۔ سندھ کی وزارت اطلاعات کے افسر نے بتایا کہ اس کی ادائیگی وزیراعلی اپنی جیب سے کرائیں گے ۔ عدالت نے اس یقین دہانی پر معاملہ نمٹا دیا ۔

خیبر پختونخوا کی وزارت اطلاعات کے افسر نے بتایا کہ ایک اشتہار دو اخبارات میں شائع کیا گیا تھا جس پر سابق وزیراعلی پرویز خٹک کی تصویر تھی، اس کی قیمت کا تعین ابھی تک نہیں کیا گیا اس لئے ادائیگی بھی نہیں کی گئی، رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی دیں کہ صرف دو اشتہارات پر وزیراعلی کی تصویر تھی ۔ سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ بیان حلفی کی بجائے مہلت دی جائے ریکارڈ تلاش کر کے درست اعداد وشمار فراہم کریں گے ۔

چیف جسٹس نے پختونخوا کے وزارت اطلاعات کے سرکاری افسر سے کہا کہ کیوں نہ آپ کی جیب یا تنخواہ سے تیس ہزار کٹوایا جائے، سرکاری افسر بن کر سیاسی لوگوں کا جائز و ناجائز دفاع کرتے ہیں، ہمیں ایسے افسران سے کوئی ہمدردی نہیں، پرویز خٹک کو بلا لیتے ہیں، صوبائی حکومت عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے پختونخوا کی وزارت اطلاعات کو پیر تک حکومتی شخصیات کی تصاویر والے اشتہارات کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اخبارات کو بھی فوری ادائیگی کر دی جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے