اعظم سواتی پر جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ

وفاقی وزیر اعظم سواتی کے اختیارات سے تجاوز کا تعین کرنے کیلئے قائم جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات سامنے آ گئے ہیں ۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے کام کا آغاز 7 نومبر کو کیا، عدالتی احکامات کے مطابق عرفان نعیم منگی کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا، رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے نیب کے پرانے ہیڈ کوارٹر کو اپنا دفتر بنایا ۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ نیب کے سات، ایف آئی اے کے تین اور ایف بی آر کے دو افسران نے جے آئی ٹی کے ساتھ کام کیا، جے آئی ٹی نے مختلف اداروں سے ریکارڈ طلب کیا ۔ رپورٹ کے مطابق نادرا، آئی جی آفس، سی ڈی اے، الیکشن کمیشن، ایف بی آر، پیمرا اور ایس ای سی پی سے ریکارڈ طلب کیا،

رپورٹ کہتی ہے کہ امیگریشن،پی ٹی اے، اسٹیٹ بنک، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد،نیب پشاور. ای آر سلوشن اور کمشنر ایبٹ آباد سے بھی مدد طلب کی گئی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے ساتھ وزیر مملکت شہریار آفریدی، سابق آئی جی اسلام آباد جان محمد جمالی، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعاون رہا، سیکرٹری داخلہ، سید حیدر حسین ایس پی رولر لیاقت نیازی کا بھی تعاون رہا، ایس ایچ او شہزاد ٹاون،ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی آپریشن، سمیت دیگر جے آئی ٹی کے ساتھ منسلک رہے ۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے علاوہ تمام متعلقہ اداروں نے ریکارڈ فراہم کیا، ایف بی آر کے عدم تعاون کے بارے میں رجسٹرار کو آگاہ کیا، رجسٹرار کے احکامات کے بعد ایف بی آر نے تعاون کیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی آرچرڈ سکیم میں رہائش گاہ اہلیہ طاہرہ سواتی کے نام ہے، 24 اکتوبر کو اعظم سواتی نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعے نیاز محمد کے خلاف درخواست آئی جی کو دی، دوسری درخواست 26 نومبر کو اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی نے تھانہ شہزاد ٹاون میں جمع کروائی، 26 نومبر کو تھانہ شہزاد ٹاون میں ایف آئی آر درج کی اور نامزد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کا پانچواں والیم اعظم سواتی کے امریکہ میں داخلے اور جائیداد سے متعلق ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سات نومبر کو جے آئی ٹی نے کرائم سین کا دورہ کر کے متاثرہ فیملی سے ملاقات کی، رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کے گھر کے باہر باڑ اور سرکاری زمین پر تجاوز دیکھا، گھر کے باہر تجاوزات کو حال ہی میں ختم کیا گیا ۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ سارے معاملے میں متعلقہ لوگوں کو بلا کر بیان ریکارڈ کیے گئے، سواتی کے نوکروں محمد نیاز کی فیملی اور پولیس اہلکاروں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے، اعظم سواتی نے بیان میں متاثرہ فیملی کے ساتھ واقع سے متعلق آئی جی کو بتایا ۔

مختلف لوگوں کی مختلف رائے سامنے آئی، پولیس نے واقعہ فام ہاوس کے باہر قرار دیا، اصل مسئلہ گائے کا گھاس چرنا تھا، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گائے جہاں گھاس چر رہی تھی وہ اصل میں سی ڈی اے کی زمین تھی اس زمین پر سواتی فیملی کا کوئی حق نہیں تھا، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوران تفتیش فارم ہاوس کے اندر درختوں کے نقصان کے شواہد نہیں ملے ۔

رپورٹ کے مطابق گائے کے چرنے سے متعلق سواتی فیملی کی شکایت کا کوئی جواز نہیں، سواتی فیمل کی گائے چرنے کی شکایت من گھڑت حقائق کے برعکس اور بے بنیاد ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد اعظم سواتی نے آئی جی کو فون کر کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی، اعظم سواتی کی شکایت کے بعد پولیس فوراً وقوعہ پر پہنچی ۔

رپورٹ میں جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ اعظم سواتی نے گھر پر حملے کی غلط بیانی کی، اعظم سواتی نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے متاثر فیملی کو گرفتار کروایا ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتار کروانے سے متعلق اعظم سواتی نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے، اعظم سواتی کا بیٹا اور پولیس افسران اعظم سواتی سے مسلسل ہدایت لیتے رہے ۔

رپورٹ کے مطابق شہریار آفریدی اور پولیس نے 27 اکتوبر گئے لیکن غریب خاندان سے ملاقات نہیں کی، اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی نے 30 اکتوبر کو مجسٹریٹ کے سامنے صلح نامہ پیش کیا جس کی بنیاد پر صلح کی گئی ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی بیوی متاثرہ فیملی کے گھر بچوں کے کپڑے لے کر گئی اور سکول داخلے کی پیشکش کی، اعظم سواتی کے افغان ملازم ذار ولی نے رقوم کی پیشکش کی جو ٹھکرا دی گئی، افسوس کا مقام ہے کہ سواتی فیملی نے متاثرہ خاندان کو پیشکش سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد کی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے