علیمہ خان کی جائیداد کی تفصیلات طلب

سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے وزیر اعظم کی ہمشیرہ علیمہ خانم کے ٹیکس ریکارڈ اور دبئی جائیداد کی فائل آدھے گھنٹے میں پیش کرنے کے حکم کے چھ گھنٹے بعد بتایا گیا کہ فائل ایف بی آر کے لاہور دفتر میں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کل لاہور میں عدالت لگائیں گے وہاں لے آئیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ عدالت میں ڈی جی ایف آئی اے اور ایف بی آر کے نمائندے پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ جو رپورٹ پیش کی گئی ہے کیا اس میں علیمہ خان کا بھی ذکر ہے؟ انہوں نے ایف بی آر کے ممبرٹیکس سے کہا کہ ہمیں بتائیں کیا علیمہ خانم کی یو اے ای میں کوئی جائیداد ہے اور کیا انہوں نے ایمنسٹی اسکیم میں درخواست دی، اگر درخواست دی ہے تو اس کی تفصیلات بتائی جائیں۔

چیف جسٹس کے استفسار پر ممبر ٹیکس نے بتایا کہ علیمہ خانم نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ تاہم ایمنسٹی اسکیم کی ایک رازداری ہے اور اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا، ٹیکس ریکارڈ کی معلومات نہیں دے سکتے ۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے پہلے اثاثے کو ڈکلیئر کرنا پڑتا ہے، کیا علیمہ خانم نے کوئی اثاثہ ظاہر کیا ۔

چیف جسٹس نے سوال کیا ایمنسٹی اسکیم میں کس چیز کی رازداری ہے، کیا یہ آپ کی پراپرٹی ہے اور کیا آپ رازداری چاہتے ہیں، آپ ہمیں سربمہر لفافے میں معلومات دیں،ہم دیکھ لیں گے ۔ جائیں اور ابھی علیمہ خانم کا ٹیکس ریکارڈ لے کر آئیں۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے اور ایف بی آر حکام سے کہا عدالت کو بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق نتائج چاہئیں، ہم نے 20 بندوں سے متعلق تحقیقات کا کہا آپ نے سارے پاکستان کو نوٹس کر دیے ۔

چھ گھنٹے کے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا ہم نے علیمہ خانم کے ٹیکس سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں وہ کہاں ہیں، جس پر ایف بی آر کے نمائندے نے جواب دیا کہ مطلوبہ فائل لاہور سے منگوائی جا رہی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فائل اگر لاہور میں ہے تو نہ منگوائیں، کل لاہور رجسٹری میں فائل پیش کریں ۔

ڈی جی ایف آئی اے بیرون ملک جائیدادوں پر رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ کل 1115 پاکستانی ہیں جن کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں، بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والوں میں دو سو بیس لوگوں کا مزید اضافہ ہوا ہے، انہوں نے بتایا کہ مزید لوگوں کی لسٹ بھی ہم نے ایف بی آر کو بھی فراہم کر دی ہے جبکہ متعلقہ لوگوں کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں سے سفری تفصیلات بھی طلب کی ہیں، عدالت نے علیمہ خانم کے ٹیکس سے متعلق ریکارڈ سر بمہر کل لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے