آئی جی نے کہا اور کوئی حکم؟

چیف جسٹس ثاقب نثار اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ ذوالفقار احمد کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔

گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت کے اسلام آباد ائرپورٹ پر ہنگامہ کرنے کے ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر آئی جی اسلام آباد پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے دن ہوگئے اسلام آباد کا آئی لگے ہوئے ۔ آئی جی نے کہا کہ کچھ دن ہوگئے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ میں اتنی کرٹسی نہیں کہ چیف جسٹس کو آ کر مل لیں ۔

آئی جی نے کہا کہ آپ باہر گئے ہوئے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بہت کم دنوں کیلئے باہر گیا تھا اس سے پہلے یہیں تھا، آپ کے علاقے میں واقعہ ہوا، کیا کیا؟

آئی جی نے پوچھا کہ کون سا واقعہ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ائرپورٹ پر ہوا ہے؟ آئی جی نے جواب دیا کہ ائرپورٹ ہماری حدود میں نہیں، یہ پنجاب کا معاملہ ہے ۔

چیف جسٹس روسٹرم پر موجود اٹارنی جنرل کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر آئی جی کو مخاطب کر کے کہا مسٹر ذولفقار، میں اس طرح کے رویے کو پسند نہیں کرتا، تکبر کو گھر چھوڑ کر آیا کریں، عدالت ہے ۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے مقدمات میں آپ کی پولیس کا نمائندہ ہروقت عدالت میں ہونا چاہئیے ۔

آئی جی ذولفقار نے کہا کہ ٹھیک ہے، پھر بولے کوئی اور حکم؟۔

مگر عدالت دوبارہ گلگت بلتستان کے وزیر کی سرزنش کی جانب متوجہ ہو چکی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے