بینٹلے بیچ کر کارکنوں کو تنخواہ دیں

میڈیا ورکرز تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مقدمے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے اور انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز کے مالک شہریار تاثیر کی سخت سرزنش کی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آخری مہلت ہے، پندرہ دن میں ورکرز کو تنخواہیں ادا کریں یا جیل جانے کو تیار ہو جائیں ۔

چیف جسٹس نے شہریار تاثیر کی جانب سے بحث کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنی کاریں بیچیں اور لوگوں کی تنخواہیں ادا کریں، وہ بینٹلے بیچیں، آپ بڑی فیملی سے ہیں، یہ مزدور لوگ ہیں ۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ آخری مہلت دے رہے ہیں ایریرز آف ان لینڈ ریونیو ریکوری ایکٹ کے تحت کاروائی کریں گے، میڈیا ہاوسسز کے وکلاء یہ ایکٹ پڑھ لیں، تنخواہیں ادا نہیں ہوئیں تو کاروائی کی جائے گی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جن ملازمین نے کام کیا ہے ان کو تنخواہیں نہیں ملی ان کا کیا قصور ہے، تنخواہ ورکرز کا حق ہے ۔عدالت نے کیپٹل ٹی وی کے مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 دسمبر تک کی مہلت دیدی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ بیان حلفی اور ورکرز کی تنخواہوں کے چیکس کیپٹل انتظامیہ جمع کرائے ۔ ڈیلی ٹائمز، نوائے وقت، دی نیشن، بول نیوز ، سیون نیوز، اسٹار ایشیا، اور خبریں کو 15 دسمبر تک کی مہلت دی گئی ہے ۔ اے آر وائی کو بھی اپنے دو سابقہ ملازمین سمیع ابراہیم اور نوشین نقوی کی تنخواہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

ورکرز کی جانب سے پرویز شوکت، آصف بٹ اور طیب بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پرویز شوکت نے جذباتی لہجے میں کہا کہ عدلیہ اور فوج کے خلاف بات کرنے کے لیے نواز حکومت نے میڈیا کو 51 ارب کے اشتہار جاری کئے، ورکرز کے پاس بچوں کی فیسوں کی ادائیگی اور مکانات کرائے کے پیسے نہیں ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ادائیگیاں نہیں ہوں گی تو چینل بند کر دوں گا ۔

ڈیلی ٹائمز کے مالک شہریار تاثیر نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ تمام احکامات پر عمل کیا ہے، دو ماہ کی تنخواہیں ادا کردی ہیں، دو ماہ کی بعد میں ادا کریں گے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ساری کیوں ادا نہیں کیں؟ بتایا گیا کہ فنڈز کا مسئلہ ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیلئے ایسا کرنا بالکل مناسب نہیں ہے، آپ تاثیر فیملی سے ہیں، بہت بڑا نام اور خاندان ہے، بھیک مانگیں، قرض لیں یا چوری کریں ورکرز کو ان کا حق دیں ۔

شہریار تاثیر نے کہا کہ یہی کر رہے ہیں، کمپنی کے اثاثے بیچ کر ادائیگی کر رہے ہیں مہلت دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے ساتھ مزید مذاق نہ کریں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پرویز شوکت نے کہا کہ یہ پہلے بھی ایک ماہ کی مہلت حاصل کر چکے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگوں کو ورکرز کا خیال نہیں آتا، اتنی بڑی فیملی سے ہیں ۔

شہریار تاثیر نے کہا کہ جہاں ہم پھنسے ہوئے ہیں وہاں سے نکلتے ہی ادائیگی کیلئے کوشش کر رہے ہیں ۔ ایک کارکن نے کہا کہ ہم نے تنخواہ مانگی تو ادارے سے ہی نکال دیا گیا ۔ شہریار تاثیر نے کمپنی کے اثاثے تحلیل کر کے ادائیگی کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت طلب کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے اس معاملے میں گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، اپنے وکیل سے پوچھ لیں ۔

شہریار تاثیر نے ہاتھ ہلا کر ناخوشی کا اظہار کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ہے، اس طرح کی حرکت نہ کریں ۔ فنڈز نہیں ہیں تو اخبار بند کر دیں ۔ پندرہ دسمبر تک ورکرز کو ڈیلی ٹائمز ادائیگیاں کرے، ادائیگیاں نہ ہوئیں تو عدالتی حکم کی عدولی تعمیل پر توہین عدالت کی کاروائی کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے