اٹارنی جنرل عدالت میں انجان کیوں بنے

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کچی آبادی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر عباس رضوی کے بارے میں پوچھا کہ وہ پیش کیوں نہیں ہوئے تو بتایا گیا کہ ان کو گزشتہ رات عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور کو طلب کیا ۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ مجھے معاملے کا علم نہیں، میں نے نیئر رضوی کو ہٹانے کی کوئی درخواست نہیں کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نہیں مان رہے، وزیر قانون بھی نہیں مان رہے، آپ دونوں میں سے ہی کوئی ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہٹانے کی سفارش کر سکتا ہے، اور کون یہ کام کر سکتا ہے؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیئر رضوی تو بہت اچھے لا افسر ہیں، ہر کیس میں تیاری کر کے آتے ہیں، یہ معاملہ آج سے نہیں ہے، ۱۹۹۷ میں جب میں لا سیکرٹری تھا تب یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور سیکرٹری قانون پر مشتمل کمیٹی ہی حکومت کے لا افسران لگانے یا ہٹانے کی سفارش کی مجاز ہے ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے لا افسران کی جو فہرست وزارت قانون کو بھیجی اس میں نیئر رضوی کو ہٹانے کا ذکر نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بھیجی گئی فہرست تبدیل کیسے ہوگئی؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں بے بس ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کہا آپ نے؟ آپ بے بس ہیں؟ ملک کے سب سے بڑے سرکاری لا افسر ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نہیں جانتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کہہ رہے ہیں، آپ نہیں جانتے؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے بے بسی کے بارے میں کہا ہے کہ نہیں جانتا ۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سیکرٹری قانون کو بلائیں، اگر یہ اس طرح ہوا ہے تو غیر قانونی ہے ۔

تین گھنٹے بعد سیکرٹری قانون اور اٹارنی جنرل دوبارہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے سمری وزیراعظم کو بھیجی؟ ۔ سیکرٹری قانون نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے سمری منظور کر لی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو علم نہیں، وزیر قانون کو پتہ نہیں تو پھر سمری کیسے بھیج دی؟

سیکرٹری قانون نے کہا کہ سمری پر وزیر قانون کے دستخط موجود ہیں، کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کو علم نہیں، انہوں نے نوٹ بھی لکھا ہے عدالت ملاحظہ کر لے، سیکشن افسر نے سمری تیار کی تھی، میں نے وزیر قانون کو طریقہ کار کے مطابق بھجوائی ۔

سیکرٹری قانون نے بتایا کہ یہ اچانک نہیں ہوا، حکومت کے آنے کے ساتھ ہی اس پر کام جاری تھا، چار ماہ سے معاملہ التوا کا شکار تھا، ہم نے نئے لا افسر لگانے تھے اور کچھ کو بحال رکھنا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لا افسران کی ٹیم اٹارنی جنرل نے چلانی ہے، کپتان وہ ہیں اور آپ اس طرح تقرر کر رہے ہیں ۔

سیکرٹری قانون نے جواب دیا کہ باقی سب افسران اپنی جگہ پر ہیں صرف ایک کو نکالا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف اس ایک کو کیوں نکالا؟ ۔ سیکرٹری قانون نے جواب دیا کہ ۱۰۴ افسران کی فہرست تھی، ہم نے یہ بنائی، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون نے بھی اس کو دیکھا، کچھ افسران کو نکال دیا گیا ۔

سیکرٹری قانون نے بتایا کہ ایک کی بیوی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل تھی وہ خود بھی اسسٹنٹ اٹارنی تھا، یہ صورتحال تھی ۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ اس پر میرا اور وزیر قانون کا اتفاق ہوا تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں اگر سرکار نے اپنے مقدمے اسی طرح کرانے ہیں تو سرکار جانے، ہم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہمارے لئے سرکار اور عام سائل میں کوئی فرق نہیں ۔ اپنے مقدمات اسی طرح لڑنے ہیں تو ذمہ داری سرکار کی ہی ہوگی ۔

نوٹس کا عدالتی حکم نامے لکھوانے کا وقت آیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں کوئی ضرورت نہیں، اس کا آرڈر لکھنے کی بھی ۔

عدالت کے باہر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیلوں نے نئیر رضوی کی فراغت پر خوشی کا اظہار کیا ۔ ایک وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ رضوی کو اس کا چیف جسٹس سے خصوصی تعلق لے ڈوبا ۔ ایک اور انصافی وکیل نے بتایا کہ بابر اعوان نے رضوی کو ہٹانے کی اپنا اثر استعمال کیا، رضوی نے بنی گالہ کیس میں پچھلی حکومت کے علاوہ حالیہ دنوں میں بھی عدالت کی ہاں میں ہاں ملائی جس پر بابر اعوان جو اس کیس میں عمران خان کے وکیل ہیں ان سے خوش نہیں تھے ۔

اٹارنی جنرل کے قریب سمجھے جانے والے ایک وکیل نے کہا کہ انور منصور نے آج مایوس کیا، یہ سب کچھ خود سے کیا کیونکہ وہ نیئر رضوی کی چیف جسٹس سے قربت کو پسند نہیں کرتے تھے مگر عدالت میں انجان بن گئے ۔ وکیل نے کہا کہ کبھی باس سے بڑھ کر کسی کی ’ٹی سی‘ نہیں کرنا چاہئے، رضوی کے ساتھ یہی ہوا ہے ۔

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے