پاک فوج اور مسئلہ کشمیر

اظہر سید
مرغی کے انڈوں اور بھینس کی بچھی کے ذریعے ملکی معیشت مستحکم کرنے والے نصب شدہ وزیراعظم نے مسلہ کشمیر کے حل کی بات کی ہے ۔دو اینچ شارٹ وزیراعظم کی طرف سے پاک بھارت مسلہ کشمیر کے حل کی بات کو بھارتی کبھی سنجیدگی سے نہیں لیں گے بھارتیوں کو پاکستانی وزیراعظم کی اوقات کا پتہ ہے اور اس بات کی بھی خبر ہے کہ یہ پیشکش اصل میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہے ۔ بھارتی پاکستان کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں انہیں پاکستانی معیشت کی بھی خبر ہے اور فوج کو درپیش مسائل سے بھی آگاہی ہے ۔انتہا پسند بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار اور بھارتی اداروں میں پاکستان دشمنی کی حکمت عملی کی وجہ سے مستقبل قریب میں مسلہ کشمیر پر پاک بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کے کوئی امکانات موجود نہیں لیکن اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں عام انتخابات سے قبل انتہا پسند بھارتی حکومت کی طرف سے لائین آف کنٹرول اور عالمی سرحدوں پر کوئی ایڈونچر ہو جائے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اگر بھارت کے عام انتخابات سے قبل بھارتی حکومت کو کسی ایڈونچر سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو یہی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
کرتارپورا بارڈر کھولنے کے معاملہ پر بھارتی حکومت نے پاکستان کی فریسٹریشن کی حد تک امن مذاکرات کی خواہش کا توہین آمیز انداز میں مضحکہ اڑایا ہے ۔پاکستان کی طرف سے مسلہ کشمیر کے حقیقی فریق پاک فوج کے سربراہ اور پالتو وزیراعظم کی شرکت کے باجود بھارتیوں نے اپنے ایک بھاند سدھو کو شرکت کیلئے آنے کی اجازت دی اور دو چھوٹے وزیروں کی شرکت کو ذاتی شرکت کہہ کر پاکستانی خارجہ پالیسی کو ٹھینگا دکھایا دیا۔
آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کی طرف سے اپنے بھارتی ہم منصب سے لندن سکول آف اکنامکس میں گرم جوش ملاقات اور ایک دوسرے سربراہ کی طرف سے اسی ہم منصب سے مل کر مشترکہ کتاب لکھنے کے معاملہ پر ایک امریکی ٹھینک ٹینک کے سربراہ کا تبصرہ تھا کہ پاکستانیوں کے پاس شائد صرف ایک ہی بھارتی دوست ہے جس کے ذریعے وہ بھارتی فوجی قیادت سے رابطوں کیلئے کوشاں ہیں ۔ایک امریکی اخبار نے کچھ عرصہ پہلے رپورٹ شائع کی تھی پاک فوج کی اعلی قیادت بھارتی فوج کے ساتھ رابطوں میں ہے اس رپورٹ کی تردید کم از کم ہماری نظروں سے نہیں گزری ۔
افغانستان میں امریکیوں کی ناکامی کے غصے سے بچنے کیلئے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھارتیوں کو غیرجانبدار کرنے کی خواہاں ہے اور کلبھوشن یادیو سے لے کر مسلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے پالتو وزیراعظم کے ذریعے بھارتیوں کو رجھانے کی خواہاں ہے لیکن بھارتی قابو نہیں آئیں گے اور اگر کہیں بھارتی مسلہ کشمیر کے حل پر رضامند ہوئے تو شائد وہ جنرل مشرف کے چناب فارمولہ سے بھی کم تر ہو ۔بھارتی کیوں بات کریں گے وہ تحریک آزادی کو کامیابی سے دہشت گردی سے جوڑ چکے ہیں اور خود مسلہ کشمیر کے پاکستانی مالکان سے لائین آف کنٹرول پر باڑ بھی لگوا چکے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں اب 1980 کی دہائی جیسی تحریک آزادی بھی موجود نہیں جب کوئی نرسہما راو آسمان سے بھی اونچی خودمختاری کا وعدہ کرتا تھا۔بھارتی مسلہ کشمیر پر کیوں بات چیت کریں گے مسلہ کشمیر نے بھارتی معیشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔بین الاقوامی برادری بھارتی منڈی کی وجہ سے کشمیریوں کی بجائے بھارتی مارکیٹ کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتی ہے ۔بھارتی پاکستان پر دراندازی کے مسلسل الزامات کے ساتھ ساتھ حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دلانے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں ۔بھارتی جیش محمد اور لشکر طیبہ کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کا کامیاب ہتھیار بنا چکے ہیں وہ کیوں مسلہ کشمیر کے حل کی طرف آئیں گے ۔
بھارتی فوج مسلہ کشمیر پر ایک فریق ہے انہوں نے سرکریک اور سیاچن کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے معاملہ پر بھارتی وزرا اعظم کی تجاویز کو ویٹو کیا تھا ۔بھارتی فوج نے سرجیکل سٹرائیک کے معاملہ پر انتہا پسند بھارتی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی ۔بھارتی فوج نے حکومتی اجازت کے بغیر کشمیر کیلئے ایک خصوصی سیل بنایا تھا ۔بھارتی ملٹری انٹلیجنس نے بھارتی مسلمانوں کو ہدف بنانے کیلئے ایک کرنل کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا تھا جس کا سربراہ کرنل روہت دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پکڑا گیا ۔بھارتی فوج پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو سکون کا سانس لینے کا موقع نہیں دے گی ۔بھارتی فوج کے سربراہ نے ابھی ایک شرط رکھی ہے کہ پاکستان سیکولر ریاست بنے تو بات چیت ممکن ہے آپ مدارس کے خلاف کاروائی کریں گے وہ دوسری شرط عائد کر دیں گے ۔
بھارت سے مسلہ کشمیر پر فیصلہ کن مذاکرات کرنے ہیں تو معیشت مستحکم کرنا ہو گی ۔قومی یکجہتی کا ہدف حاصل کرنا ہوگا ۔منظور پشین ،محمود اچکزئی،اسفند یار ولی ،آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی حمائت حاصل کرنا ہوگی پوری قومی حمائت کے ساتھ بھارت سے بات چیت ہو گی تمام ہمسایہ ممالک آپ کے ساتھ کھڑے ہونگے تو بھارتیوں کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات ممکن ہے دو انچ شارٹ وزیراعظم کی نہ کوئی وقعت ہے اور نہ اہمیت ۔بھارت کے ساتھ مذاکرات کی۔خواہش سے قبل اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا دوسری صورت میں بھارتی تو اپنے آئین میں ترمیم کے چکر میں ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو کہہ سکیں مقبوضہ کشمیر تو ہمارا حصہ ہے بات چیت آزاد کشمیر پر ہو گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button