علیمہ خان کی جائیداد عدالت میں

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی دبئی میں جائیداد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ہے ۔ عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اب تک کی جانے والی تمام کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے علیمہ خان کو طلبی کے لئے کب نوٹس بھیجا گیا، ایف بی آر نے کیا کارروائی کی ۔

ایف بی آر کے کمشنر ان لینڈ ریونیو نے دبئی کی جائیداد، کرایہ نامہ اور ٹیکس کی تفصیلی سربہمر لفافے میں عدالت کو پیش کی اور بتایا کہ ایف بی آر نے علم میں آنے پر آٹھ فرروی کو نوٹس بھیجا، بیرون ملک ہونے کے باعث علیمہ خان کو نوٹس موصول نہیں ہوئے ۔

عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان نے دبئی فلیٹ پر ایمنسٹی اسکیم میں اپلائی نہیں کیا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی خبر میڈیا میں غلط رپورٹ ہو رہی ہے ۔ علیمہ خان کو نوٹس فلیٹ ڈیکلیئر نہ کرنے پر بھیجا گیا تھا، فلیٹ بنک قرض سے خریدا گیا جو قسطوں کے ذریعے کرائے کی مد میں ادا کیا گیا، ملکیت ملنے پر فلیٹ کو بیچ دیا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ علیمہ خان نے بینک سے قرض لے کر فلیٹ خریدا، اس کا کرایہ قسط کے طور پر بینک کو ادا کیا، پھر فلیٹ کو فروخت کر دیا، اب معاملہ کیا ہے؟۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو نے بتایا کہ بیرون ملک خریدی گئی جائیداد ظاہر کرنا لازم ہے، ایف بی آر کو ان کے نفع اورنقصان سے کوئی غرض نہیں ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ علیمہ خان کے خلاف ایف بی آر کی کارروائی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ۔ سماعت 6 دسمبر کو بیرون ملک جائیدادوں والے کیس کے ساتھ ہوگٰی ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے