یہ ملک کون چلا رہا ہے؟ محسن داوڑ

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایف آئی اے کی حراست سے رہائی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ یہ ملک کون چلا رہا ہے؟

پشاور پریس کلب میں محسن داوڑ نے کہا کہ الیکشن کے بعد ہم نے جلسے کئے پشتون تحفظ مومنٹ کے ہمارے جلسے کو خراب کرنے اور تشدد پر اکسانے کے لئے لوگوں کو بھیجا گیا، پاکستان کا جھنڈا دے کر ایسے لوگ بھیجے گئے جنہوں نے اشتعال پھیلایا ۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ  جلسے کے بعد پتہ چلا کے ایف آئی آر درج ہوئی ہے، معاملہ اتنا تھا نہیں جتنا اسے متنازعہ بنایا گیا، معمولی سی ایف آئی آر پر نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے،  میں اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کرچکا ہوں۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہمارے پشتون بھائی ہیں انکی خواہش تھی کہ ہم وہاں ان سے ملیں، ہمیں جانے سے روکا گیا اور ایف آئی آر کا حوالہ دیا گیا، ہم نے کوئی دہشتگردی نہیں کی اپنے حق کی آواز اٹھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام آئی جی انوسٹیگیشن پختونخوا کے کہنے پر فلائٹ سے ایک دن پہلے ڈالا گیا، ایف آئی اے ہیڈ آفس لے کر گئے اور پاسپورٹ ہم سے لے لئے، رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کرنے سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کرنا پڑتا ہے۔

ریاست سے یہ پوچھتے ہیں کہ ایسا ہمارے ساتھ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ ملک چلا کون رہا ہے ؟ اس کا جواب چاہیے، نہ ہمیں جرم بتایا گیا نہ قانونی تقاضے پورے کئے گئے۔ داوڑ نے کہا کہ 500 ایف آئی آرز ہم پر درج کردیں ہم اپنے حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے، موت اور گرفتاریاں ہمیں ڈرا نہیں سکتیں۔

ہم اپنی زمین پر صرف امن چاہتے ہیں اور کچھ نہیں،  ہمیں استعمال کیا گیا جنگ کے نام پر۔ ہمیں بے گھر کیا گیا ہمیں مارا گیا ہمیں بےروزگار کیا گیا ہے،  ہمارے خلاف غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں سے جواب لیں گے، یہ ہمارا نہیں تمام قبائل کا استحقاق مجروح کیا گیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے اور ذمہ داروں سے باز پرس کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے