تفتیش کیلئے نواز شریف خود بتائیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

سپریم کورٹ میں پاکپتن اوقاف اراضی کیس کی سماعت کا آغاز چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس طرح کیا کہ اپنے کورٹ ایسوسی ایٹ سے کہا کہ لائیے جی پاکپتن ۔

ہرکارے نے کیس کا نمبر اور عنوان پکارا ۔ نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ روسٹرم پر آئے اور ان کے پیچھے دیگر وکلا اور نواز شریف بھی آگے آئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جی ۔ نواز شریف کے وکیل منور دگل نے عدالت کو بتایا کہ آپ نے نوٹس کیا تھا وہ پیش ہوگئے ہیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کہاں ہیں میاں صاحب ۔ نواز شریف روسٹرم کے قریب ہوئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ جی میاں صاحب، آپ نے یہ دیکھا ۔ نواز شریف نے جواب دیا کہ جی، دیکھا ہے جی ۔ یہ 32 سال پرانا واقعہ ہے، میرا کوئی ایسا فیصلہ ریکارڈ پر نہیں کہ 1969 کا نوٹی فیکیشن واپس لینے کا کہا ہو ۔

نواز شریف کی بات پوری ہونے سے قبل ہی چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب، دو باتیں ہیں، یہ اوقاف کی پراپرٹی ڈیکلیئر ہو چکی تھی ۔ اس کے خلاف مقامی متاثرین نے ڈسٹرکٹ سیشن جج سے رجوع کیا کہ ہماری زمین ہے، جج نے بھی اوقاف کے نوٹی فیکیشن کو درست قرار دیا اور دعوی خارج کر دیا ۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ۔ ہائیکورٹ نے بھی متاثرہ شخص کے خلاف فیصلہ دیا اور اوقاف کو ہی زمین دینے کا حکم برقرار رکھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اوقاف، ڈسٹرکٹ جج اور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں آئی، معاملہ ابھی یہاں تھا کہ صوبائی حکومت نے اوقاف کا نوٹی فیکیشن واپس لے لیا ۔ اس سے پہلے اوقاف سے کہا گیا کہ زمین واپس کر دیں مگر نہ کی تو بطور وزیراعلی آپ کے ذریعے کرائی گئی، یہ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے ۔

چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ یہ نوٹس میں نے نہیں لیا، مجھ سے پہلے چیف جسٹس جمالی صاحب نے لیا تھا ۔ آپ کا جواب آ گیا ہے، آپ کے دفتر سے یہ مبینہ طور پر ہوا مگر ریکارڈ وہاں سے غائب ہو گیا، اگر آپ نے یہ نوٹی فیکیشن واپس نہیں لیا تھا جس کا آپ کو اختیار بھی نہ تھا کیونکہ عدالتی فیصلہ تھا اور معاملہ سپریم کورٹ میں تھا۔ آپ کے وکیل سے بار بار کہہ رہا ہوں کہ آپ ایک شریف آدمی کو اس طرح نہ کریں، اگر آپ نے نہیں کیا تو پھر یہ ساری کی ساری کارروائی جعلی ہوگئی، اس کی الگ سے تحقیقات ہوں گی ۔

چیف جسٹس نے پراپرٹی کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ کل 14 ہزار کنال اراضی ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے مخاطب کر کے کہا کہ یو، مسٹر نواز شریف، آپ کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ سمری پر آپ کے سیکرٹری جاوید بخاری نے لکھا ہے کہ وزیراعلی نے دیکھ لیا ہے اور منظوری دیدی ہے ۔

نواز شریف نے جواب دیا کہ مجھے بالکل کچھ یاد نہ تھا، میرے وکیلوں نے ریکارڈ دکھایا ہے، سرکاری ریکارڈ بھی دیکھا ہے، 1969 کے نوٹی فیکیشن کے حوالے سے کوئی بھی نوٹی فیکیشن میں نے، میرے دفتر نے نہیں کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زمین کا نوٹی فیکیشن اوقاف سے ہی ہوتا ہے مگر فرض یہی کیا جائے گا کہ وزیراعلی کے دفتر نے منظوری دی تب ہوا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب، میں سیدھا سیدھا سوال کرتا ہوں، کیا یہ سارے کا سارا فراڈ کیا گیا اس کا جواب دیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سیکرٹری اوقاف کی جب اس جانب توجہ دلائی گئی کہ نوٹی فیکیشن کا نمبر ہی غلط ہے اس کو دوبارہ وزیراعلی کے دفتر بھیجا جائے تو انہوں نے نہیں بھیجا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریکارڈ سے پڑھتے ہوئے کہا کہ لکھا گیا ہے کہ بعد ازاں گورنر پنجاب کی منظوری سے بقیہ 72 کنال اراضی بھی دی گئی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے سابق سیکرٹری جاوید بخاری حیات ہیں؟ ۔ نواز شریف نے جواب دیا، جی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیگر مقدمات میں بھی ایسی چیزیں سامنے آتی رہی ہیں، عطا الحق قاسمی کے مقدمے میں بھی سمری پر آپ کے دستخط نہیں تھے مگر سیکرٹری فواد حسن فواد نے کہا کہ منظوری دی گئی تھی ۔ اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے، آپ کے سیکرٹری نے کیا ہوگا ۔

نواز شریف نے کہا کہ جی سر، جس بات پر آپ کو حیرت ہے، مجھے بھی حیرت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بطور وزیراعلی پنجاب بڑے باخبر اور فعال رہے ہیں، اگر دو ایکڑ زمین بھی آگے پیچھے ہوتی تو آپ کو معلوم ہوتا ۔

نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ ہمیں موقع دیں آپ کو تفصیل سے بتا دیں گے اور مؤقف دینے کی کوشش کریں گے ۔ چیف جسٹس نے ان کو سخت لہجے میں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ پریکٹس نہیں کرتے اس لئے آپ کو پتہ نہیں، ٹھیک ہے ہم اس میں جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں، تحقیق تو کرنی ہے، آپ اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں ۔ چیف جسٹس نے نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ دو تین بار ہمارے وزیراعظم رہے ہیں اور وزیراعلی و وزیر خزانہ تو آپ کو کلیئر کروں ۔

نواز شریف نے کہا کہ اوقاف سیکرٹری نے کہا تھا کہ میری اپنی پاور ہے کر سکتا ہوں وزیراعلی کے دفتر سے منظوری کی ضرورت نہیں ۔ میرا خیال یہی ہے کہ انفرادی سطح پر کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ساری جائیداد دیوان صاحب کو ملی تو انہوں نے فورا ہی بیچ دی ۔ نواز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر بنانا ہے تو جے آئی ٹی کے سوا کچھ اور بنا دیں، جے آئی ٹی کا ہمارا تجربہ کچھ اچھا نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود منصف بن جائیں، آپ جیسے محترم لیڈر ہیں تو ان کو خود منصفی کرنا چاہئیے ۔

نواز شریف نے جواب میں کہا کہ جی بہت اچھا، بہت اچھا ۔ چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے کہا کہ ظفر سے نہیں (بیرسٹر ظفراللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) میاں صاحب کو سمجھائیے کہ معاملہ کیا ہے ۔

اس دوران درخواست گزار کے وکیل نے کچھ کہا تو چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب جے آئی ٹی سے گھبرا گئے ہیں پہلے ان کا جواب آنے دیں اس کے بعد دیگر معاملات دیکھیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا جے آئی ٹی بنا دیں، میاں صاحب کہتے ہیں نہ بنائیں ۔

کافی دیر سے روسٹرم پر کھڑے وکیل افتخار گیلانی نے چیف جسٹس کو مخاطب کر کے کہا کہ زمین کی ملکیت تبدیل نہیں ہو سکتی، یہ زمین اوقاف کی تھی ہی نہیں، جو مالک تھا وہی مالک رہے گا اگر آستانہ تھا تو وہی مالک رہے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب اوقاف نے نوٹی فیکیشن جاری کر دیا تو زمین اس کی ہوگئی ۔ وکیل نے کہا کہ ملکیت کا ٹائٹل تبدیل نہیں ہو سکتا ۔

جاری ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے