نواز شریف کیس میں حکم نامہ

پاکپتن مزار سے ملحق اوقاف پراپرٹی کیس میں نواز شریف بطور سابق وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے ۔ عدالت نے معاملے کی تفتیش کا فورم بتانے کیلئے ان کو سات روز کی مہلت دی ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ۔

عدالت نے اوقاف اراضی کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی ۔ عدالت نے نواز شریف سے پوچھا ہے کہ تحقیقات کس سے کرائیں؟ پولیس، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے یا نیب سے؟ اس کا جواب نواز شریف اپنے وکیلوں کی مشاورت سے سات دن میں جمع کرائی ۔

عدالت نے نواز شریف کے بیان کو بھی ریکارڈ اور حکم نامے کا حصہ بنایا ہے کہ نواز شریف نے واضح موقف اپنایا کہ ان کا نوٹیفکیشن واپسی میں کوئی کردار نہیں، 32سال پرانا معاملہ ہے، مجھے اس بارے میں کچھ یاد نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات کرا لیتے ہیں، اگر سمری پر دستخط نہیں کیے تو آپ بری الذمہ ہیں، معاملہ زیر التوا تھا کوئی شخص اوقاف پراپرٹی  کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لے سکتا تھا ۔  نواز شریف نے کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ نچلی سطح پر کوئی گڑ بڑ کی گئی ہے، میرے اس وقت کے سیکرٹری جاوید اقبال بخاری بھی اس معاملے میں ملوث نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات ہونی چاہئیں کہ اوقاف اراضی کا نوٹیفکیشن کس نے واپس لیا، یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں 14ہزار کنال اراضی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب آپ ایک باخبر وزیراعلیٰ رہے ہیں، ایک دو کنال کا معاملہ بھی ہوتا تو آپ کے علم میں ہوتا، میاں صاحب آپ اگر ملوث نہیں تو میں دو تین مرتبہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ رہنے والے کو کلئیر کروں گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے