عدالت سے وزیراعظم کو جواب

زلفی بخاری کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے نام نہ لیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی بات کا جواب دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے جہانگیر ترین کیس میں اقربا پروری کی بات کی ہے، اقربا پروری کی بات پر بہت ردعمل ایا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بیس دفعہ اقربا پروری کی بات کروں گا، رٹ آف کووارنٹو کے لیے اقربا پروری بہترین گراونڈ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی کو افسوس ہوا اسکے لیے عدالتی نظام میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس کے پوچھنے پر وکیل اعتزاز نے کہا کہ زلفی بخاری کا پروفائل عدالت میں پیش کر دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر تقرری میں اقربا پروری ہو گی تو ضرور عدالتی جائزہ لیں گے، ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں ۔ غالبا کسی نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ یہ مقدمہ کووارنٹو کا ہےاقربا پروری تو ایک گراونڈ کے طور پر زیر بحث ایا تھا ۔

زلفی بخاری لندن میں پیدا ہوئے خاندانی کاروبار سےمنسلک رہے، اعتزاز احسن

زلفی بخاری پاکستان میں کب متعارف ہوے، زلفی بخاری لندن میں کسی کو گاڑی پرلیکر گئے تھے، چیف جسٹس

درخواست گزار نے کہا کہ ریحام خان کی طلاق کے معاملے پر زلفی بخاری منظر عام پرآئے،

زاتی معاملے پر زیادہ بات نہیں کریں گے، عدالت افضل بھٹی کو بھی ایسے عہدے سے ہٹا چکی ہے، چیف جسٹس

سمندر پار پاکستانیوں کے لیے زلفی بخاری نے بہت کام کیا، اعتزاز احسن

زلفی بخاری ای او بی آئی کے بورڈ اجلاس کی بھی صدرات کرتے ہیں، درخواستگزار

زلفی بخاری کی کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں، عدالت نے صرف اہلیت کا جائزہ لینا ہے، صرف دوہری شہریت کے معاملے کا جائزہ لینگے، چیف جسٹس

عدالت نے سماعت 25 دسمبر تک ملتوی کردی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے