ڈاکٹر ثمر مبارک کو نیب بھیج دیا گیا

تھر کول منصوبہ مکمل نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ثمر مبارک اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف نیب کو کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل نے حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ثمر مبارک مند نے دعوی کیا تھا بجلی سے ملک کو مالا مال کردوں گا، جو اربوں روپے لگے ان کا حساب کون دے گا ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منصوبے پر اب تک 4 ارب 69 کروڑ خرچ ہوئے، پونے پانچ ارب خرچ ہوئے لیکن بجلی پیدا نہیں ہوئی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تھرکول منصوبے کی جگہ سے لوگ سامان بھی اٹھا کر لے گئے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تھر کول پلانٹ پر صرف تین چوکیدار تھے، منصوبہ کے لیے فزیبلیٹی سٹڈی اور منصوبہ بندی ناقص تھی، منصوبے کے حوالے سے پلاننگ کمیشن نے کردار ادا نہیں کیا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد کیوں خیال آتا ہے کہ منصوبہ درست نہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ منصوبہ دو سال سے بند تھا لیکن کروڑوں کی خریداری جاری تھی، خدشہ ہے پہلے والے چار ارب بھی منصوبہ پر نہیں لگے ہوں گے، 2017 کے بعد رقم کس کے کہنے پر جاری ہوئی تھی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ارب 69 کروڑ ضائع ہو گیا، پیسہ ضائع ہونے کا ذمہ دار میرے سامنے ہے ۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے جائزہ لے کر فنڈز جاری کئے، جب فنڈز میسر ہوئے تو پلانٹ نہیں چل سکا، صرف اتنا کہا گیا کہ بجلی پیدا کر کے دکھاؤ، فنڈ بند ہونے کے بعد کوئلے سے گیس کیسے بناتے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو زمہ داران ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی، سمجھ نہیں آتی پلانٹس کا کیا کریں، وفاقی اور سندھ حکومت جائزہ لیں کیا منصوبہ چل سکتا ہے، چھ ہفتے میں سائنٹفک سٹڈی کر کے فیصلہ کیا جائے ۔

عدالت عظمی نے ہدایت کی کہ ملازمین تنخواہوں کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کریں، سپریم کورٹ نے تھر کول منصوبہ آزخود نوٹس نمٹا دیا، سپریم کورٹ نے تھر کول منصوبہ نیب کو بھجوا دیا۔ عدالت نے کہا کہ نیب آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں ثمر مبارک مند کے خلاف کارروائی کرے، قومی خزانے سے منصوبے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے