صحافی کے پٹرول اسٹیشن کے خلاف فیصلہ

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایل ڈی اے کے زیرانتظام علاقے میں پٹرول اسٹیشن کی نیلامی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق الاٹیز سے دس روز میں لیز پلاٹ خالی کرانے کا حکم دیا ہے ۔

ایل ڈے اے کے وکیل نے بتایا کہ کل 21 پمپس نیلام ہو گئے، 18 پمپس بک گئے ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ لبرٹی چوک والا پمپ مجیب الرحمان شامی صاحب کا ہے۔ چیف جسٹس نے سابق الاٹیزکے وکیل سے کہا کہ پیر کلیم صاحب، اپ بھی ہمارے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں، اس اسٹیشن کا سالانہ ایک لاکھ 47 ہزار کرایہ تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غور کریں یہ کتنا فراڈ ہو رہا ہے۔

ایل ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ نئی بولی کے تحت سالانہ چار کروڑ ستائیس لاکھ اس پٹرول اسٹیشن سے آئیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اج سپریم کورٹ کے خلاف بڑا پروگرام ہی ہو گا۔ سابق الاٹیز کے وکیل نے کہا کہ اس پمپ پر ہم نے بہت خرچہ کیا ہے وہ واپس کر دیں۔ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ اپنا سامان اٹھا کر لے جائیں۔

وکیل نے کہا کہ درخواست صرف یہ ہے کہ انصاف کو حصول ممکن بنایا جائے، سات آٹھ کروڑ روپیہ خرچ کیا گیا ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایل ڈی اے 10 روز میں پیٹرول پمپس کا قبضہ لے کر کامیاب بولی دہندہ کو دے، موجودہ لیز ہولڈر چاہیں تو اپنا سامان اٹھا سکتے ہیں ۔

ایل ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی کوشش کی وجہ سے 38 کروڑ اب قومی خزانے میں آئیں گے ۔

عدالت نے پیٹرول پمپس کی بولی کی منظوری دے دی ۔

مجیب الرحمن شامی نے اس کیس پر پاکستان ٹوئنٹی فور کو مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اس پمپ کی لیز ان کے یا خاندان کے کسی فرد کے نام نہیں تھی، ان کے بیٹے کے پاس اس کی صرف ڈیلرشپ تھی، اس کی لیز کا معاہدہ ۶۰ کی دہائی میں شیل کمپنی اور ایل ڈی اے کے درمیان ہوا، ایل ڈی اے کے وکیل نے جھوٹ بول کر عدالت کو گمراہ کیا اور اس حوالے سے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے