جعلی ڈگریوں والے 73 پائلٹس و عملہ

پی آئی اے اور دیگر ائر لائنز کے پائلٹس اور کیبن عملے کی ڈگریوں کی تصدیق کے کیس میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ 73 افسران و عملے کی ڈگریاں بوگس ہیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کاروائی کی ہے۔؟ معطل کیا ہے۔؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انکوائری چل رہی ہے ۔ سول ایوی ایشن کے نمائندے نے عدالت سے استدعا کی کہ دو مہینے کا وقت دے دیں انکوائری کرکے رپورٹ پیش کریں گے، نمائندے نے بتایا کہ پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گھنٹوں کی بات کریں آپ مہینے مانگ رہے ہیں، باقی ائر لائنز کی کیا پوزیشن ہے ۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ شاہین کے 172 پائلٹس کیبن عملہ 538 ہے، 442 ڈگریاں موصول ہوئی ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نیر رضوی کے جانے کے بعد کوئی معاونت نہیں مل رہی ۔ (واضح رہے کہ نیر رضوی سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے جن کو بنی گالہ کیس کی وجہ سے حکومت نے فارغ کر دیا ہے)

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹیوں کو ایک ہفتے میں تصدیق کا کہا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سال ہوگیا ہے ابھی تک کچھ نہیں ہوا، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی کہاں ہیں، چیف جسٹس نے پوچھا کہ آج کل پی آئی اے کے سی ای او کون ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے یونین والوں کو روکا تو این آئی آر سی سے جاکر اسٹے لے آئے، میں این آئی آر سی عدالت سے ساری فائلیں منگوا رہا ہوں، پی آئی اے اور متعلقہ اداروں نے اب تک کوئی اقدامات نہیں کئے، معاملے پر غیر ضروری التوا مانگ کر تا خیر کا شکار کیا گیا ۔

عدالت نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے تعلیمی اداروں کے سربراہان ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، این آئی آر سی تمام کیسوں کا ریکارڈ لے کر آئے، سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے