صرف مالدار اور بااثر ہی علاج کرا سکتا ہے

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف مالدار یا بااثر شخص ہی علاج کرا سکتا ہے غریب کا اچھا علاج نہیں ہوتا ۔ چیف جسٹس راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ اسٹروک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ والدہ کی بیماری میری زندگی کا تکلیف دہ امر تھا، میں نے یہ دیکھا کہ پاکستان میں علاج وہی کرا سکتا ہے جو مالدار یا بااثر ہو۔ اس لئے صحت کے شعبہ میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا کہ ہر غریب کا آسان علاج ہوسکے، میں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے بھی چندہ لے کر اسپتالوں کو دیا ۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ معاشرہ کے بیمار افراد کے علاج پر توجہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن غریب کا اچھا علاج نہیں ہوتا حالانکہ یہ اس کا قانونی حق ہے، اسپتالوں میں دیکھا کہ علاج کے بنیادی آلات ہی نہیں، وینٹی لیٹرز خراب تھے اور جو ٹھیک تھے وہ صرف سفارشیوں کے لیے تھے، کوئی امیر آجائے تو غریب کو لگا وینٹی لیٹر اتارکر امیر کو لگا دیا جاتا، خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں گیا تو دیکھا کہ ایک بستر پر 3،3 مریض تھے، یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبہ میں حکومتی فنڈز بہت کم ہیں اور وہ بھی درست استعمال نہیں ہوتے، اب میڈیکل تعلیم بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے مگر ہم اتائی زیادہ پیدا کر رہے ہیں، نجی میڈیکل اسپتالوں کا معاملہ دیکھا تو بتایا گیا پڑھانے والا ہی کوئی نہیں مگر وہ ڈاکٹر بنتے ہیں، میں یہ سن کر ڈر گیا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے