آج کتنے بچے پیدا ہوں گے

اسلام آباد سے وقار حیدر

دنیا بھر میں آج 3 لاکھ 95 ہزار بچوں کی پیدائش، پاکستان میں تقریبا 15 ہزار بچے پیدا ہوں گے ۔

دنیا بھر میں ہرروز لاکھوں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، لیکن جب بھی نیا سال شروع ہوتا ہے تو یہ دن خاص ہوتا ہے کہ اس روز دنیا بھر میں کتنے بچے دنیا میں آنکھ کھولیں گے، دنیابھر کی این جی اوز اور آئی این جی اوز اس پر کام کرتی ہیں ، بچوں کی پیدائش اور نئے پیدا ہونے والے بچوں کی بہتر نگہداشت کیلئے یہ تنظیمیں کوشاں رہتی ہیں ۔ لیکن تمام تر اقدامات کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر ہزاروں بچے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لیتے ہیں۔
سال 2019 کا آغاز ہو گیا ، یونیسیف کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق آج یعنی 1 جنوری 2019 کو دنیا بھر میں 3 لاکھ 95 ہزار بچوں کی پیدائش ہوگی، رپورٹ کے مطابق ہمسائیہ ملک بھارت میں 69,944 ، دوسرے نمبر پر چین میں 44,940، تیسرے نمبر پر نائجیریا میں 25,685 اور چوتھے نمبر پر پاکستان میں آج کے روز 15,112 بچوں کی پیدائش ہوگی ۔ بڑھتی آبادی کے ساتھ بچوں کی پیدائش کے یہ نمبر جہاں خوش آئند ہیں وہیں پر آبادی میں اضافے کی یہ صورتحال ہوشربا ہے ۔
لیکن بات صرف بچوں کی پیدائش پر آکر رک نہیں جاتی ۔ یہ صحیح ہے کہ دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں روزانہ کے حسا ب سے بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے لیکن دوسری جانب اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزانہ پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بڑی تعداد اپنے پیدائش کے دن ہی اس دنیا کو چھوڑ جاتے ہیں، تقریبا 70000 بچے روزانہ کی بنیاد پر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بچہ اس لیے نہیں فوت ہو جاتے کہ ہمارے پاس ان کو بچانے کے آلات نہیں ہیں بلکہ تقریبا 80 فیصد نئے پیدا ہونے والے بچوں کی موت دوان زچگی کے مسائل ، انفکیشن اور نمونیا کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔ ماوں اور بچوں کو صحت کی بہتر،معیاری اور سستی سہولت فراہم کر کے انکی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے ۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سال 2017 میں پیدائش کے روز ہے موت کے منہ میں جانے والے بچوں کی تعداد 10 لاکھ تھی جبکہ 25 لاکھ بچے اپنی پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی دم توڑ گئے ۔ سب سے زیادہ اموات قبل از وقت پیدائش ، نمونیا اور سیپسس کے باعث ہوتی ہیں ۔پچھلے دس سالوں میں دنیا میں بچوں کی نمو سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ، پانچوں سالگرہ سے پہلے موت کی منہ میں جانے والے بچوں کے نمبر میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن پھر پانچ سے کم عمر کے بچوں میں تقریبا 47 فیصد بچے اپنی زندگی کے پہلے ماہ ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے