مقتول کے والد کا جھوٹا بیان دینے کا اعتراف

سپریم کورٹ میں قتل کے ایک مقدمے میں مقتول کے والد نے ٹرائل کورٹ میں دیئے گئے اپنے بیان کو جھوٹا تسلیم کر لیا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آپ حلف پر جھوٹ بولنے کا اعتراف کر رہے ہیں ۔ عدالت عظمی نے گواہوں کے بیانات میں تضاد پر دونوں ملزمان کو بری کر دیا ۔

جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں عدالتی بنچ نے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق دوران سماعت عدالت میں مقتول ندیم جاوید کے والد نے کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ مقتول کے والد نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ  جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا ۔ مقتول کے والد کے کلمہ پڑھ کر سچ کہنے کے بیان پر جسٹس آصف کھوسہ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہاں کلمہ پڑھ کر دیا گیا بیان مانیں یا ٹرائل کورٹ میں حلف پر دیا گیا بیان تسلیم کریں؟ ٹرائل کورٹ میں حلف پر کچھ اور کہا اور آج کچھ اور کہہ رہے ہیں ۔

مقتول ندیم جاوید کے والد نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں دیا گیا بیان پنچائیت کے فیصلے کے پر دیا تھا وہ سچ نہیں تھا یہ سچ ہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے پیسے اور جائیداد کی محبت میں حلف پر جھوٹا بیان دیا، ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آپ حلف پر جھوٹ بولنے کا اعتراف کر رہے ہیں، سزائے موت کے کیس میں جھوٹی گواہی پر عمر قید بنتی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اگر گواہ سچ نہیں بولیں گے تو انصاف کیسے ہوگا، جھوٹی گواہیاں دے کر عدالتوں کے ساتھ فراڈ کیا جاتا ہے، ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ عدالت سے جھوٹ بول کر توقع کی جاتی ہے کہ انصاف ہو ۔ عدالت نے بیانات میں تضاد پر دونوں عمر قید کے دونوں ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا ۔ ملزمان کو وہاڑی میں ندیم جاوید کے قتل پر ٹرائل کورٹ نے سزا سنائی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button