سپریم کورٹ نے پٹواری فارغ کر دیئے

سپریم کورٹ نے شہری علاقوں میں زمین کے انتقال میں پٹوار خانوں کے کردار پر پابندی عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ صرف ریکارڈ رکھنے کے کام آئیں گے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پٹوار خانوں نے لٹ مچائی ہوئی ہے، آج تک حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، دنیا چاند پر چلی گئی لیکن یہاں آج بھی پٹواری رجسٹر لے کر گھوم رہے ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے تحصیلدار/ پٹواریوں کی ذمہ داریوں کے مقدمے کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاہور میں زمین کے انتقال بند کر دیتے ہیں، جب انتقال نہیں ہوں گے تو پیسے لینے والے خود ہی مر جائیں گے ۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ دیہی علاقوں میں زمین کی فروخت زبانی ہوئی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ شاید آج ہم زمین کی زبانی فروخت بند کر دیں، دنیا چاند پر چلی گئی ہے، یہاں ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوسکتا، پٹوار خانے بند کر دیتے ہیں، حکومت کو دھیلا بھی نہیں ملے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں لینڈ ریونیو کا کوئی تخمینہ نہیں وہاں پٹوارخانے کیسے کھلے ہیں ۔ سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اس کیس میں قانون کی تشریح کا معاملہ ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے متعلق میرا ہی فیصلہ ہے ۔ محکمہ مال کے افسر نے بتایا کہ خسرہ نمبر سے زمین منتقل ہوتی ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریکارڈ کہاں سے آجاتا ہے، شہروں میں تو ماسٹر پلان ہوتا ہے، جو علاقے ماسٹر پلان میں نہیں آتے وہاں زمین کی فروخت ایسے ہوتی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شہروں میں پٹوار خانوں کی ضرورت نہیں، پٹوار خانوں نے لٹ مچائی ہوئی ہے، آج تک حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، دنیا چاند پر چلی گئی لیکن آج بھی پٹواری رجسٹر لے کر گھوم رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس میں مختصر حکمنامہ سناتے ہوئے اربن علاقوں میں زمین کے انتقال میں پٹوار خانوں کے کردار پر پابندی عائد کرتے ہوئے زمینوں کے زبانی انتقال پر بھی پابندی عائد کردی، عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ شہری علاقوں میں پٹوار خانے کا کام صرف ریکارڈ رکھنے تک محدود ہوگا جب کہ زمین کا انتقال ٹرانسفر آف لینڈ ایکٹ اور رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ہی ہوگا۔

سپریم کورٹ نے شہری اور سیٹلڈ ایریا میں پٹوار خانے کا کردار محدود کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پٹوار خانے صرف ریکارڈ رکھنے کے کام آئیں گے، پٹوار خانوں کا اب زمینوں کے انتقال میں کوئی کردار نہیں ہوگا، شہری علاقوں میں زبانی انتقال بھی نہیں ہوگا ۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ جائیداد کا انتقال صرف لینڈ ریوینیو قانون کے تحت ہی ہوگ ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے کہا کہ جہاں لینڈ ریونیو قانون نافذ العمل ہے وہاں پٹواری کا کردار مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے، شہروں میں بنائے گئے پٹوار خانے صرف ریکارڈ رکھنے کے کام آئیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے