ملک ریاض کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

سپریم کورٹ میں جعلی بنک اکاؤنٹس کی تفتیش کیلئے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر آخری سماعت دلچسپ تھی ۔ ہر پل، ہر لمحہ مختلف موڑ مڑتی سماعت کا اختتام بھی اسی طرح ہوا ۔

ساڑھے نو بجے کمرہ عدالت میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کمرہ عدالت میں داخل ہوا تو ہرکارے نے آواز لگائی کہ ‘کورٹ آ گئی ہے’ ۔ ججز اپنی کرسیوں پر بیٹھے تو کیس کا نمبر اور عنوان پکارا گیا ۔

کمرہ عدالت میں لگی کرسیوں کی پہلی رو میں اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک اور لطیف کھوسہ جیسے وکیل بیٹھے ہوئے تھے ۔ روسٹرم پر بحریہ ٹاؤن کے وکیل خواجہ طارق رحیم (سابق گورنر پنجاب) کھڑے ہوئے ۔ ان کے ساتھ اٹارنی جنرل انور منصور اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین کھڑے تھے ۔ ان کے پیچھے نصف درجن وکلا اور جے آئی ٹی کے ارکان ہاتھ باندھے موجود تھے ۔

ابتدا بحریہ کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے ان الفاظ سے کی ‘ہم سارے وکیل کچھ مشترکہ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ 109 کے پیراگراف نمبر 275 کی جانب توجہ دلاتے ہیں، اس میں فاروق نائیک کے بیٹے کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں دبئی سے 8 لاکھ ڈالر آئے، اسی طرح فاروق نائیک کی قانونی فرم کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے گٹھ جوڑ کے تحت چار سال میں پچاس کروڑ روپے مقدمات کی فیسوں کی صورت میں ادا کئے’ ۔

وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے اس پیراگراف سے وکیلوں کے بارے میں غلط تاثر قائم کر کے ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، ہم تو اپنے موکل سے مقدمہ لڑنے کی فیس لیتے ہیں، ہمیں اس طرح کے معاملات میں نتھی کیا جانا درست نہیں ۔

خواجہ طارق رحیم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کوئی سوچا سمجھا معاملہ ہے کہ وکیلوں کے بارے میں اس طرح کی رپورٹ تیار کی جائے؟ اس طرح کی باتوں پر کارروائی ہوئی تو پنڈورہ باکس کھلے گا ۔ جس وقت خواجہ طارق رحیم روسٹرم پر کھڑے یہ بات کر رہے تھے، قریب بیٹھے فاروق نائیک اپنے ہاتھ کے اشاروں سے اعتزاز احسن کو اپنی لاعلمی سے آگاہ کرتے دیکھے گئے ۔

چیف جسٹس نے وکیل طارق رحیم کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں ۔ ابھی چیف جسٹس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ان کے بائیں جانب بیٹھے جسٹس اعجاز الاحسن نے روسٹرم پر وکیلوں کو مخاطب کر کے کہا کہ یہاں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس پر وکیل خواجہ طارق رحیم فورا بولے کہ اگر کوئی مقدس گائے نہیں ہے تو بہت کچھ کھلنا چاہئے اور کھلے گا بھی ۔ چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کیا اور کہا کہ کس کا نہیں کھولا؟ آپ بتائیں کس معاملے کو ہم نے نہیں کھولا؟ ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل طارق رحیم کے جواب میں کہا کہ کھلنے دیں، لے آئیں جو بھی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ خواجہ صاحب، آپ سب وکیلوں پر ملک ریاض کا خبط سوار ہو گیا ہے، آپ سب یہ چاہتے ہیں کہ اس عدالت سے کسی طرح ملک ریاض کو بچا کر لے جائیں، ہم اس کیس میں بھی نیب کو کہہ دیتے ہیں، عمل درآمد بنچ تو پہلے ہی کراچی بحریہ ٹاؤن کے خلاف فیصلے کو دیکھ رہا ہے ۔

وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ہم تو رقم دینے کیلئے تیار ہیں، بحریہ ٹاؤن کراچی عمل درآمد بنچ سے یہی استدعا کر رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا کہ ہمیں مجبور نہ کریں کہ آج ہی بنچ لگا کر پوچھ لیں کہ ملک ریاض کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اتنے بڑے معاملات میں اس کا نام آیا، کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے آدمی کیلئے ہر کوئی آ جاتا ہے، ملک ریاض کیلئے بھی سب آ جاتے ہیں، اس کو صرف کور دے رہے ہیں، ہم کہہ دیتے ہیں اس معاملے کو بھی نیب دیکھ لے گا ۔

معاملات بگڑتے دیکھ کر ملک ریاض کے وکیل خاموش ہو گئے تو چیف جسٹس نے مرکزی مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کیلئے اٹارنی جنرل سے سوال شروع کئے ۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے جواب میں بتایا کہ 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ کابینہ کے سامنے آیا ہے، دس جنوری کو اس پر حتمی فیصلہ ہوگا ۔ اومنی گروپ کے وکیل منیر بھٹی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر افتخار درانی نے میڈیا کو بیان جاری کیا ہے کہ حکومت نے کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا، یہ جے آئی ٹی نے کیا ۔

چیف جسٹس وکیل کی مداخلت پر برہم ہوگئے، کہا کہ اصل مقدمے سے ہٹ کر ای سی ایل پر آ گئے ہیں، آپ چھوڑیں میں ان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیتا ہوں، آپ وکیلوں نے قسم کھا لی ہے کہ اصل مقدمے کو چلنے نہیں دینا، بتائیں اومنی کے خلاف نیب کا کیس بنتا ہے یا نہیں، قانونی دلائل دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا سارا مواد سامنے آنے کے بعد کوئی اس معاملے کو کیسے ختم کر سکتا ہے ۔

وکیل منیر بھٹی نے کہا کہ رپورٹ میں بدنیتی شامل ہے، عدالتی حکم کے برعکس تحقیقات کرکے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی گئی ۔ چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کر کے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، چلیں ہم یہ معاملہ نیب کو بھیج دیتے ہیں، اب بتائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چارٹ دیکھا ہے کس طرح ان کی دولت کا گراف اوپر گیا ہے؟ کیسے سبسڈی دی تھی، کیسے سندھ اور سمٹ بنک بنائے گئے اور اب کیسے ان کو آپس میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ سبسڈی اور جعلی اکاؤنٹس معاملے پر مٹی پڑ جائے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button