اعظم سواتی کے اثاثے آمدن کے مطابق نہیں

سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے ٹیکس ریٹرن و اثاثوں میں مطابقت نہ ہونے کا معاملہ کارروائی کیلئے ایف بی آر اور غریب پڑوسیوں کو دھمکانے کا کیس پولیس کے حوالے کر دیا ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ ادارے کارروائی کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اعظم سواتی کو یہاں پر سزا ملے گی، ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے، ہم سواتی کو 62-1 ایف کے تحت نوٹس کردیتے ہیں، پولیس نے اس کے خلاف پرچہ درج نہیں کرنا ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ کو اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ سواتی نے عہدے سے استعفا دے دیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ صرف وزارت سے استعفا دیا ہے، ہم اس معاملے کو 62 -1 ایف کے تحت دیکھ رہے ہیں، کیا وہ رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب بھی وزارت پر اعظم سواتی کا نام چل رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے پوچھا کہ آئی جی آپ نے اب تک کیا کیا ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق آئی جی عامر ذوالفقار نے بتایا کہ ہم نے اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی، نجیب اللہ جان محمد، فیض محمود اور جہانزیب کے خلاف پرچہ درج کیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو سارا کرتا دھرتا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا، اس لیے کہ وہ بڑا آدمی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ سواتی نے صرف ایک فون نہ سننے پر آئی جی تبدیل کرا دیا، پھر اس کے باغ سے بھینس بھی نہیں نکلی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر لوگوں کو انصاف نہیں دینا تو کس چیز کے آئی جی لگے ہوئے ہیں، غریب لوگوں کو مارا پیٹا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں آ گیا کہ وزیر کے ساتھ پولیس نے خصوصی برتاؤ کیا، ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے، یہاں پر سزا بھی ملے گی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سواتی کو 62-1 ایف کے تحت نوٹس کردیتے ہیں، پولیس نے پرچہ درج کرنا نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ غریبوں کو مارا گیا، آپ سے کہا داد رسی کریں، آپ پھر مل گئے، چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ عامر ذوالفقار آپ کے بارے میں میرا تاثر بہت خراب ہوگیا ہے ۔ عدالتی معاونفیصل صدیقی نے کہا کہ جے آئی ٹی نے لکھا ہے کہ آئی جی کے تبادلے میں اعظم سواتی کا کردار نہیں، لیکن تبادلہ اسی دن کیا گیا جب آئی جی نے فون سننے سے انکار کیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کچھ معاملات میں نیب کو مداخلت کی سفارش کی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالتی معاون نے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق اعظم سواتی نے دو اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کی، جے آئی ٹی کے مطابق ایف بی آر سے اعظم سواتی نے غلط بیانی کی ہے، بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کیا ہے، تفتیشی رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کی آمدن اور اثاثے آپس میں مماثلت نہیں رکھتے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن کے علاوہ کوئی ایسا فورم ہے جہاں اس معاملے کو بھیجا جائے؟ اس کیس میں اختیارات کا غلط استعمال ثابت ہوچکا ہے، کس جوڈیشل فورم نے اس مسئلے کودیکھنا ہے آپ بتادیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے نے منطقی انجام تک تو پہنچنا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انکم ٹیکس کی عدم ادائیگیاں ایف بی آر کا معاملہ ہے، اثاثوں پر متعلقہ فورم الیکشن کمیشن ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف بی آر کو معاملہ بھیجیں یا نہ بھیجیں یہ ہماری صوابدید ہے، ہم خود ہی اس مسئلے کو کیوں نہ دیکھیں ۔

عدالتی معاون نے بتاہا کہ اعظم سواتی اور طاہرہ سواتی کی بیرون ملک سے آنے والی آمدن اور ان کے یہاں پر اثاثوں میں واضح فرق ہے، ایک ارب 57 کروڑ روپے کی رقم ان کے پاس موجود ہے جبکہ باہر سے آنے والی رقم 9 اعشاریہ7 ملین ڈالر ہے، اگرجائیداد کی معلومات صحیح نہیں دی گئی تو اس پر میمبر پارلیمنٹ کی نااہلی ہوتی ہے۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سواتی صاحب امریکہ میں آپ داخلہ بند ہے نا ۔ اعظم سواتی نے جواب دیا کہ جی میں نے خود 1996 میں اپنی امریکی شہریت ترک کردی تھی، اب میں امریکہ کا ویزہ اپلائی کیا ہوا ہے بطور پاکستانی شہری کے مجھے امریکہ کا ویزہ لینا پڑتا ہے ۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے ٹیکس ریٹرن و اثاثوں میں مطابقت نہ ہونے کا معاملہ کارروائی کیلئے ایف بی آر اور غریب پڑوسیوں کو دھمکانے کا کیس پولیس کے حوالے کر دیا ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ ادارے کارروائی کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے